ملک کے دو مختلف صوبوں پنجاب اور بلوچستان میں پیش آنے والے الگ الگ ٹریفک حادثات کے نتیجے میں کم از کم 24 افراد جاں بحق جبکہ 20 سے زائد زخمی ہو گئے۔ دونوں حادثات نے عوام کو شدید رنج و غم میں مبتلا کر دیا ہے۔
سرگودھا حادثہ (پنجاب)
پنجاب کے ضلع سرگودھا کی تحصیل کوٹ مومن میں گلابور بنگلا پل کے قریب ایک افسوسناک حادثہ پیش آیا۔ اسلام آباد سے فیصل آباد جانے والا ایک ٹرک شدید دھند کے باعث راستہ بھٹک گیا اور بے قابو ہو کر خشک نہر میں جا گرا جس کے نتیجے میں ٹرک پلٹ گیا۔
ریسکیو حکام کے مطابق ٹرک میں 23 افراد سوار تھے جو ایک جنازے میں شرکت کے لیے جا رہے تھے جن میں 6 بچے بھی شامل تھے۔ حادثے کے نتیجے میں 14 افراد موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے جبکہ 9 افراد زخمی ہوئے۔
اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور امدادی کارروائیاں شروع کیں۔ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی سرکاری اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق حادثے کی بنیادی وجہ شدید دھند اور حدِ نگاہ میں کمی بتائی جا رہی ہے۔ دھند کے باعث ملک کی مختلف موٹرویز M-1، M-2، M-3، M-4 اور M-11 کو بھی عارضی طور پر بند کرنا پڑا۔
مکران کوسٹل ہائی وے حادثہ (بلوچستان)
بلوچستان میں مکران کوسٹل ہائی وے پر گوادر کے قریب اورماڑہ تحصیل کے علاقے ہڈ گوتھ میں ایک تیز رفتار مسافر کوچ الٹ گئی۔ کوچ کراچی سے جیوانی جا رہی تھی اور اس میں سندھ کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے مزدور سوار تھے۔
حادثے کے نتیجے میں 10 افراد جاں بحق ہو گئے جن میں ایک لڑکی بھی شامل ہے جبکہ درجن بھر افراد زخمی ہوئے۔
ایڈھی ریسکیو سروس اور مقامی انتظامیہ نے فوری امدادی کارروائیاں کرتے ہوئے لاشوں اور زخمیوں کو پی این ایس درماں جہ ہسپتال اورماڑہ منتقل کیا۔ شدید زخمیوں کو بہتر علاج کے لیے کراچی کے نجی اسپتالوں میں ایئر لفٹ کیا جا رہا ہے۔
سرکاری ردعمل
صدرِ مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے دونوں حادثات پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے لواحقین سے تعزیت کی اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے سرگودھا حادثے کی تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن امداد فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔
وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے سندھ کے وزیراعلیٰ سے رابطہ کر کے زخمیوں کے علاج اور منتقلی کے لیے خصوصی انتظامات کروائے۔
یہ حادثات ایک بار پھر اس تلخ حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اوور اسپیڈنگ، خراب موسم، خطرناک ڈرائیونگ اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پاکستان میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کا باعث بن رہی ہے جس پر مؤثر اقدامات کی فوری ضرورت ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








