سوشل میڈیا پر خود نمائی مہنگی پڑ گئی، “ٹک ٹاکر افسران” کیلئے شکنجہ تیار

تازہ ترین

تازہ ترین

علامتی تصویر بہ ذریعہ اے آئی
علامتی تصویر بہ ذریعہ اے آئی

حکومتِ پاکستان نے سوشل میڈیا پر ذاتی تشہیر میں مصروف سرکاری افسران، جنہیں غیر رسمی طور پر “ٹک ٹاکر افسر” کہا جا رہا ہے، کے گرد گھیرا تنگ کرتے ہوئے نئے قواعد و ضوابط کی منظوری دے دی ہے۔ وزیرِاعظم شہباز شریف کی منظوری سے جاری کیے گئے ان ضوابط کو سول سرونٹس (کنڈکٹ) رولز 2026 کا نام دیا گیا ہے، جو 1964 کے بعد پہلی بڑی اصلاحات ہیں۔

سینئر صحافی محسن گورائیہ کے مطابق ان نئے قوانین کا مقصد سرکاری نظم و نسق کو بہتر بنانا اور ریاستی اداروں کی ساکھ کو مضبوط کرنا ہے۔ ان قواعد کے تحت کسی بھی سرکاری ملازم کو پیشگی اجازت کے بغیر سوشل میڈیا، یوٹیوب، بلاگ، پوڈکاسٹ، ٹی وی یا اخبارات کے لیے مواد تیار کرنے یا کسی پلیٹ فارم کو چلانے کی اجازت نہیں ہوگی، چاہے وہ اپنی شناخت ظاہر کرے یا فرضی نام استعمال کرے۔

حکومت نے واضح کیا ہے کہ سرکاری ملازمین ذاتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس رکھ سکتے ہیں، تاہم وہ سرکاری معلومات، وسائل یا عہدے کو ذاتی تشہیر یا مفاد کے لیے استعمال نہیں کرسکیں گے۔ اس کے علاوہ ایسا کوئی مواد شیئر کرنا بھی ممنوع ہوگا جو حکومت یا ریاستی اداروں کی ساکھ کو متاثر کرے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق سرکاری سوشل میڈیا اکاؤنٹس صرف مجاز اتھارٹی کی تحریری اجازت سے بنائے جا سکیں گے اور ان کا استعمال صرف مستند سرکاری معلومات تک محدود ہوگا۔ افسر کے تبادلے کی صورت میں متعلقہ اکاؤنٹس کی رسائی نئے افسر کو منتقل کرنا لازمی ہوگا۔

مزید برآں سرکاری ملازمین کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنی ملازمت کے دوران حاصل ہونے والے تجربات پر مبنی ایسی تحریریں یا یادداشتیں شائع نہ کریں جن میں خفیہ معلومات شامل ہوں۔ حکومت یا اس کی پالیسیوں کے خلاف ایسا بیان دینا بھی ممنوع قرار دیا گیا ہے جو اداروں کے وقار کو نقصان پہنچا سکتا ہو۔ ادبی، سائنسی اور فنی نوعیت کے علاوہ کسی بھی اشاعتی کام کے لیے پیشگی اجازت لینا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

سیاسی سرگرمیوں پر بھی سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ کوئی بھی سرکاری ملازم نہ تو کسی سیاسی سرگرمی میں حصہ لے سکے گا، نہ مالی معاونت کرے گا اور نہ ہی کسی بھی انداز میں سیاسی عمل پر اثر انداز ہو سکے گا۔ البتہ وہ ووٹ ڈالنے کا حق رکھتا ہوگا مگر اپنی سیاسی رائے کا اظہار نہیں کر سکے گا۔

ان قواعد میں مالی شفافیت پر بھی زور دیا گیا ہے۔ سرکاری ملازمین کو اپنی ملازمت کے آغاز پر تمام اثاثے ظاہر کرنا ہوں گے اور ہر سال آمدنی، اخراجات اور جائیداد کی تفصیل جمع کرانا ہوگی، جبکہ گریڈ 17 اور اس سے اوپر کے افسران کے لیے آن لائن ڈیکلیئریشن لازمی قرار دیا گیا ہے۔ غلط یا چھپی ہوئی معلومات کی صورت میں کارروائی ہو سکے گی۔

نوٹیفکیشن کے مطابق کسی بھی سرکاری ملازم کو تحائف قبول کرنے، غیر ملکی اعزاز لینے یا ایسی مہمان نوازی قبول کرنے کی اجازت نہیں ہوگی جو سرکاری کام پر اثر انداز ہو سکتی ہو۔ اسی طرح اقربا پروری، سفارش، مفادات کے ٹکراؤ اور غیر ضروری پرتعیش طرزِ زندگی پر بھی پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔

حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ اقدامات سرکاری ملازمین کو غیر جانبدار رکھنے، اداروں کی ساکھ کو برقرار رکھنے اور گورننس کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے ضروری ہیں۔ یہ قواعد تمام سرکاری ملازمین پر لاگو ہوں گے، چاہے وہ ملک میں ہوں یا بیرونِ ملک، ڈیوٹی پر ہوں یا چھٹی پر۔

Related Posts