نیویارک کے ٹائمز اسکوائر میں ترک نژاد امریکی کمیونٹی نے شہر کے میئر ظہران ممدانی کے خلاف سخت احتجاج کیا اور ان کی حالیہ سوشل میڈیا پوسٹ کو “یک طرفہ اور اشتعال انگیز” قرار دے دیا۔
معاملہ اس وقت بھڑکا جب ممدانی نے 24 اپریل کو ایکس (ٹوئٹر) پر 1915 کے واقعات سے متعلق آرمینین مؤقف کی تائید کرتے ہوئے عثمانی سلطنت پر سنگین الزامات عائد کیے، ساتھ ہی 2020 کے ناگورنو کاراباخ تنازع میں ترکیہ اور آذربائیجان کو بھی نشانے پر لیا۔ ان کے اس بیان نے ترک کمیونٹی کو سخت مشتعل کر دیا۔
مظاہرین نے کھلے الفاظ میں کہا کہ ایک بڑے عالمی شہر کا میئر بن کر تاریخ کو “سیاسی ہتھیار” بنانا ناقابل قبول ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ 1915 کے واقعات کو متنازع اور پیچیدہ تاریخی پس منظر کے ساتھ دیکھا جانا چاہیے، نہ کہ سادہ بیانیے میں ڈھال کر پیش کیا جائے۔
احتجاج میں شریک افراد نے ممدانی سے مطالبہ کیا کہ وہ سیاسی پوائنٹ اسکورنگ سے باز آئیں اور حساس تاریخی معاملات پر ذمہ دارانہ اور متوازن مؤقف اختیار کریں۔ مظاہرین نے خبردار کیا کہ اس قسم کی بیان بازی نہ صرف کمیونٹیز کے درمیان فاصلے بڑھاتی ہے بلکہ غیر ضروری تناؤ کو بھی جنم دیتی ہے۔
ترکیہ پہلے ہی 1915 کے واقعات کو “نسل کشی” قرار دینے کی مخالفت کرتا آیا ہے اور اس حوالے سے مشترکہ تاریخی کمیشن بنانے کی پیشکش بھی کر چکا ہے، مگر ممدانی کا بیان ایک بار پھر اس پرانے تنازع کو نئی شدت دے گیا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








