کراچی میں رواں سال طوفانی بارشیں متوقع، شہر کے نشیبی علاقے ڈوبنے کا خدشہ

تازہ ترین

تازہ ترین

کراچی میں رواں سال طوفانی بارشیں متوقع، شہر کے نشیبی علاقے ڈوبنے کا خدشہ
کراچی میں رواں سال طوفانی بارشیں متوقع، شہر کے نشیبی علاقے ڈوبنے کا خدشہ

کراچی: محکمۂ موسمیات نے رواں برس اضافی اور طوفانی بارشوں کا امکان ظاہر کیا ہے تاہم متعلقہ اداروں اور حکومت سندھ کی عدم دلچسپی کے باعث کراچی کے نشیبی علاقے ڈوب جانے کا خدشہ ہے۔

شہرِ قائد کے 500 چھوٹے بڑے نالوں کی صفائی نہیں ہوئی ہے، خصوصاََ شہر کے27 بڑے نالے کچرے اور مٹی سے بھرے ہوئے ہیں جس کے باعث باران رحمت ، متعلقہ اداروں کی کوتاہی کے باعث زحمت بن سکتا ہے۔ایک وجہ یہ بھی ہے کہ 27 بڑے نالے صاف کرنے کیلئے بلدیہ عظمی کراچی کی ایسی مالی حالت نہیں کہ وہ کچھ خرچ کر سکے۔

بڑے نالوں کی صفائی انتہائی اہمیت کی حامل ہے جب تک بڑے نالوں کے چاکنگ پوائنٹس صاف نہیں ہوں گے، نکاسئ آب کے امور بہتر طور پرانجام نہیں دئیے جاسکتے ۔گزشتہ  تیز برسات کے بعد بڑے نالوں کی مکمل صفائی نہ ہونے سے مسائل بڑھ گئے تھے۔

بلدیۂ عظمی کراچی اور ضلعی بلدیات کو تیزی سے نالوں کی صفائی کرنی ہوگی ۔اس حوالے سے بلدیہ وسطی میں نالوں کی صفائی کا کام ہوتا نظر آرہا ہے تاہم دیگر ضلعی بلدیات میں خاموشی چھائی ہوئی ہے۔اس کی ایک وجہ کورونا وائرس کے باعث لاک ڈاؤن بھی ہے جس کے دوران بلدیاتی ادارے 3 ماہ تک بندرہے۔

ادارے بند ہونے کے باعث ضلعی بلدیات کی اپنی آمدنی بند ہو چکی ہے جو پہلے ہی مالی بحران سے دوچار ہیں اور نالوں کی صفائی کیلئے درکار خطیر رقم ان کے پاس موجود نہیں۔تنخواہوں کی ادائیگی بمشکل ہو رہی ہے، جو حکومتِ سندھ کی ماہانہ او زیڈ ٹی  حصے کی ادائیگی سے ممکن ہوتی ہے۔

سندھ حکومت کو بلدیاتی اداروں کی مالی معاونت کیلئے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا ۔ماضی میں ایک دوسرے پر الزامات عائد کئے جاتے رہے  اور حکومتِ سندھ نے نالوں کی صفائی کے لیے 2 سال سے ضلعی انتظامیہ کو ذمہ داریاں دے رکھی ہیں کیونکہ ضلعی انتظامیہ کے افسران کو بلدیاتی امور کا کوئی تجربہ نہیں ۔

اس لیے بھاری اخراجات کے باوجود نالے مکمل صاف نہیں ہوئے اور شہرِِ قائد کو اب یہ خطرناک صورتحال  درپیش ہے کہ اگر تباہ کن طوفانی بارش 3 گھنٹے سے زائد وقت تک مسلسل ہوئی تو شہر کے نشیبی علاقے اور سڑکیں زیر آب آجائیں گی ۔

صوبائی حکومت  کو نالوں کی صفائی کا کام بلدیاتی اداروں کے ذمے لگانا ہوگا کیونکہ یہ ضلعی انتظامیہ ، کمشنر ، ڈپٹی کمشنرز کا کام نہیں ہے۔بہتر نتائج کیلئے  بلدیاتی اداروں کو نالہ صفائی فنڈ فراہم کر کے اس کی مانیٹرنگ محکمۂ بلدیات سندھ کے افسران خصوصاََ سیکریٹری بلدیات سے کرائی جائے تاکہ  شہر کو ڈوبنے سے بچانے کیلئے شفاف اقدامات عمل میں لائے جاسکیں۔ 

Related Posts