مسجد میں چھپا جنسی بھیڑیا بے نقاب؛ لندن کے قاری کو بچوں سے زیادتی پر 10 سال قید

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ کینٹ پولیس)

برطانیہ کی کاؤنٹی کینٹ کے علاقے چیٹم (Chatham) واقع مسلم کمیونٹی سینٹر اور مسجد کے امام قاری شیر محمد کو لابالغ بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے جرم میں 10 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

سب سے پہلے 2018 میں ایک متاثرہ بچی نے ان کے رویے کے بارے میں شکایت درج کرائی۔ اس بچی نے بتایا کہ قاری شیر محمد نے مارچ 2014 سے اکتوبر 2016 کے درمیان اس کے ساتھ جنسی چھڑ چھاڑ کی۔ اس وقت پولیس نے انہیں گرفتار کیا اور تفتیش کی لیکن مقدمہ آگے نہ بڑھ سکا کیونکہ عدالت میں مقدمے کے بچی پر پڑنے والے ممکنہ اثرات کے بارے میں خدشات تھے۔

مئی 2022 سے دسمبر 2023 کے دوران قاری شیر محمد نے مزید تین بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی جس کے بعد انہیں 11 دسمبر کو دوبارہ گرفتار کیا گیا۔ اس دوران پولیس نے 2018 کی متاثرہ بچی سے رابطہ کیا جو اب بالغ ہو چکی تھی۔ اس نے مقدمے کی حمایت کرنے کی خواہش ظاہر کی۔

لندن کے فاریسٹ گیٹ کے علاقے ووڈفورڈ روڈ کے رہائشی 61 سالہ قاری شیر محمد پر متعدد بچوں کے ساتھ جنسی ہراسانی کے الزامات عائد کیے گئے۔

کینٹربری کراؤن کورٹ میں مقدمے کے دوران انہوں نے الزامات سے انکار کیا اور کہا کہ وہ خدا کے خوف کی وجہ سے طالبات کے ساتھ نازیبا سلوک نہیں کر سکتے۔

انہوں نے ایک متاثرہ کو بدتمیز اور شرارتی قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان کا کوئی بھی رابطہ صرف ہاتھوں یا سر تک محدود تھا اور وہ والدین کے سامنے احترام اور مہربانی کے طور پر ہوا۔

عدالت نے ان کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں تقریباً ایک دہائی تک جاری رہنے والے 16 جنسی زیادتی کے جرائم کا مجرم قرار دیا۔

عدالت میں انکشاف کیا گیا کہ قاری شیر محمد نے کچھ بچیوں اور بچوں کو خصوصی توجہ دیتے ہوئے انہیں گلے لگا لیتے تھے، ان کے کپڑوں کے اندر ہاتھ ڈال کر نازیبا حرکات کرتے تھے جبکہ وہ بچوں سے فرنچ کس بھی کرتے رہے، معصوم بچیوں کو برہنہ کرکے ان کی مالش بھی کیا کرتے تھے۔

تفتیش کار ڈیٹیکٹو کانسٹیبل کونور مڈلٹن نے کہا کہ یہ شخص اپنے بااختیار عہدے پر ہوتے ہوئے ان سنگین جرائم کا مرتکب ہوا۔ متاثرہ بچوں نے غیر معمولی ہمت دکھائی اور ان کے والدین نے تفتیش میں تعاون کیا۔

Related Posts