بلغ العلٰی بکمالہٖ: ملک بھر میں شب معراج عقیدت و احترام کے ساتھ منائی گئی

تازہ ترین

تازہ ترین

شبِ معراج
(فوٹو: بزنس ریکارڈر)

مسلمانوں کا ایمان ہے کہ حضرت محمد ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ہیں جو شب معراج کے موقعے پر ایک ایسے مقدس سفر کیلئے روانہ ہوئے جو کسی عام انسان کے تو کیا، کسی اور نبی یا ولی کے حصے میں بھی نہیں آسکا۔ ملک بھر میں شب معراج انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ منائی گئی۔

تفصیلات کے مطابق تاریخ اسلام ہمیں بتاتی ہے کہ شب معراج سے مراد وہ شب ہے جب رسول اللہ ﷺ براق پر بیٹھ کر آسمان کی جانب روانہ ہوئے اور عرش معلیٰ تک جا پہنچے۔ سفر معراج کے دوران پہلے  سے ساتویں آسمان اور پھر سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچے جہاں برگزیدہ فرشتے حضرت جبرائیل علیہ السلام نے آپ ﷺ  کو الوداع کہا۔

جلتے ہیں جبرئیل کے پر جس مقام پر

اس کی حقیقتوں کے شناسا تمہی تو ہو

سدرۃ المنتہیٰ وہ مقام ہے جہاں سے آگے حضرت جبرائیل کو جانے کی اجازت نہیں تھی۔ لہٰذا یہاں سے آگے حضور اکرم ﷺ خود تشریف لے گئے اور عرش معلیٰ کا مشاہدہ کیا۔ الغرض یہ کہ رسول اللہ ﷺ نے شب معراج کے موقعے پر وہ بلندیاں ملاحظہ فرمائیں جو آج تک انبیائے کرام سمیت کسی اور انسان کے حصے میں نہ آسکیں۔

سر لامکاں سے طلب ہوئی، سوئے منتہیٰ وہ چلے نبی ﷺ

کوئی حد ہے ان کے عروج کی، بلغ العلیٰ بکمالہٖ

شب معراج کے موقعے پر ملک بھر کی مساجد میں محافل اور خصوصی عبادات ہوئیں۔ درود و سلام اور نعت خوانی کی محافل سجائی گئیں اور نوافل کی ادائیگی سے مساجد کو معمور کیا گیا۔ علمائے کرام نے واقعہ معراج کی فضیلت پر روشنی ڈالتے ہوئے عوام الناس کو اس کی اہمیت اور فضیلت سے آگاہ کیا۔

علمائے کرام کا کہنا ہے کہ شعب معراج وہ رات ہے جب اللہ تعالیٰ نے حضور اکرم ﷺ کو معراج کا شرف عطا فرماتے ہوئے 5نمازوں کے تحفے سے سرفراز فرمایا۔ اس رات آپ ﷺ مسجد الحرام سے مسجد اقصیٰ تک گئے اور تمام انبیائے کرام علیہم السلام نے آپ کی اقتدا میں نماز ادا کی، جس کے بعد معراج کا بابرکت سفر شروع ہوا۔

یہی نہیں بلکہ آپ ﷺ نے مختلف انبیائے کرام سے ملاقاتیں کیں اور انہوں نے آپ ﷺ کو بزرگ ہونے کے ناطے مختلف نصیحتیں کیں اور آپ ﷺ کی فضیلت کی تعریف فرمائی۔ رسول اکرم ﷺ جنت اور دوزخ کا بھی مشاہدہ کیا اور وہاں مختلف نعمتوں اور عذابوں کو بھی دیکھا، جو شب معراج سے متعلق اسلامی واقعات کا حصہ ہیں۔

Related Posts