مقتول شمس الاسلام ایڈوکیٹ اور قاتل کے درمیان شاہد آفریدی کی جانب سے صلح کروانے کا انکشاف

تازہ ترین

تازہ ترین

مقتول شمس ایڈووکیٹ اور شاہد آفریدی
فوٹو آج

کراچی کے علاقے ڈیفنس فیز 6 میں معروف قانون دان خواجہ شمس الاسلام کا قتل کیس کیس تیزی سے حل ہونے کے قریب پہنچ رہا ہے، واردات کی سی سی ٹی وی فوٹیجز اور ملزم کے اعترافی بیان نے واقعے کی تفصیلات مزید واضح کر دی ہیں۔

پولیس کے مطابق یہ قتل پرانی دشمنی اور ذاتی انتقام کا نتیجہ نکلا ہے لیکن حیران کن پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب مقدمے میں نامزد ایک ملزم نے دعویٰ کیا کہ معروف کرکٹر شاہد آفریدی نے مقتول شمس الاسلام اور ان کے مبینہ قاتل کے درمیان صلح کرائی تھی۔

اس واردات میں اہم موڑ تب آیا جب ملزم عمران آفریدی کا ویڈیو بیان سامنے آیا، جس میں اس نے اعتراف کیا کہ خواجہ شمس الاسلام نے مبینہ طور پر اس کے والد کو اغوا کے بعد قتل کیا تھا۔ عمران آفریدی کے مطابق اس کے والد اور شمس الاسلام کے درمیان 35 لاکھ روپے کا لین دین تھا، جو تنازع میں بدل گیا۔ بیان میں ملزم نے کہا کہ شمس الاسلام نے اس کے بھائیوں پر جھوٹے مقدمات قائم کروائے، خواتین کو بھی مقدمات میں ملوث کیا اور انصاف نہ ملنے پر اس نے قتل کا فیصلہ کیا۔

ملزم نے واضح کیا کہ اس واردات میں اس کے کسی عزیز یا دوست کا کوئی کردار نہیں اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ان لوگوں کو تنگ نہ کریں۔

دوسری جانب پولیس اہلکار اور واقعے میں نامزد تقدیر آفریدی کا بھی ویڈیو بیان سامنے آیا ہے، جس میں اس نے دعویٰ کیا کہ 21 سالہ پولیس سروس میں کبھی معطل تک نہیں ہوا اور اس کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں۔ تقدیر آفریدی نے الزام عائد کیا کہ خواجہ شمس الاسلام نے اس کے گھر پر دو بار چھاپے مروائے، دہشتگردی کی دفعات لگوائیں اور ان کی خواتین کو بھی مقدمات میں گھسیٹنے کی کوشش کی۔

تقدیر آفریدی کے مطابق پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی بھی شمس الاسلام اور عمران آفریدی کے درمیان صلح کے لیے سرگرم رہے اور 20 مارچ 2025 کو ان کی کوششوں سے دونوں فریقین کے درمیان معاملہ طے پا گیا تھا۔

تقدیر آفریدی کے مطابق صلح میں خواجہ شمس الاسلام کی جانب سے دیت دینے اور عمران آفریدی کی جانب سے والد کا کیس واپس لینے کا فیصلہ ہوا تھا۔ تاہم اس معاہدے کے باوجود شمس الاسلام کی جانب سے قانونی کارروائیاں جاری رہیں، جس نے صورت حال کو دوبارہ سنگین بنا دیا۔

تقدیر آفریدی نے کہا کہ بے گناہ ہونے کے باوجود میرے گھر پر دو بار خواجہ شمس الاسلام نے چھاپے پڑوائے، خواجہ شمس الاسلام نے 14 نومبر 2024 کو جھگڑے کی ایف آئی آر میں دہشتگردی کی دفعات ڈلوائیں اور ہمارے خاندان کا فیملی ٹری نکلوا کر ہماری خواتین کو بھی اس ایف آئی آر میں نامزد کرانے کی کوشش کی۔

تقدیر آفریدی نے کہا کہ خواجہ شمس الاسلام جھگڑے کی ایف آئی آر میں زبردستی بے گناہوں کو نامزد کراتا رہا، ہمارے ساتھ اتنی زیادہ زیادتیاں ہوئیں لیکن ہمیں کہیں سے انصاف نہیں مل پا رہا تھا۔

Related Posts