سابق سینیٹر شمیم آفریدی نے اپنے بیٹے اور سابق سینیٹر عباس خان آفریدی کی موت کو معمولی حادثہ قرار دینے کی بجائے فوری طور پر شفاف اور موثر تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
سابق سینیٹر شمیم آفریدی نے سیشن ہاؤس اعظم باغ میں پریس کانفرنس کی جس میں انہوں نے کہا کہ یہ کوئی گیس لیک نہیں تھا بلکہ میرے سارے خاندان کو دھماکے میں شہید کیا گیا، ان کے مطابق دھماکا حادثہ نہیں بلکہ جعلی صورت سازی کے ذریعے حقیقت چھپانے کی منصوبہ بندی تھی۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ کوہاٹ پولیس اور دیگر اعلیٰ حکام نے ابھی تک نہ تو ہماری ایف آئی آر درج کی اور نہ کوئی رابطہ کیا، اور میرے ملازمین کو اٹھا لیا گیا، 8 دن گزر گئے مگر نہ کوئی شواہد برآمد ہوئے اور نہ تحقیقات شروع کی گئیں۔
شمیم آفریدی نے مزید کہا کہ ان کے خاندان کے تقریباً تمام افراد پر وارنٹ گرفتاری جاری ہیں، جو سیاسی انتقام کا حصہ ہو سکتے ہیں۔
شمیم آفریدی کا موقف ہے کہ اس واقعے کو گیس لیکج قرار دے کر اصل سازش کو چھپانے کی کوشش کی گئی؛ انہوں نے ایک آزاد عدالتی کمیشن تشکیل دینے کا مطالبہ کیا تاکہ سچ سامنے آ سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ صحیح معنوں میں جنسی اور فیزیکل سیکیورٹی کا فقدان سنگین شبہات کو جنم دے رہا ہے، اور موجودہ تحقیقات مایوس کن حد تک غیر مؤثر ہیں۔
یاد رہے کہ 6 جون 2025 کو اعظم باغ کے ہُجرا میں گیس لیکج کے مبینہ دھماکے میں سابق وزیر اور سینیٹر عباس آفریدی شدید زخمی ہوئے، جنہیں پہلے کوہاٹ سی ایم ایچ منتقل کیا گیا اور بعد ازاں کھاریاں برن سینٹر منتقل کیا گیا، جہاں وہ انتقال کر گئے۔ اس واقعے میں 3 افراد زخمی بھی ہوئے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








