پاکستان کا معاشی حب اور وطن عزیز کی شہ رگ شہر قائد جو عام طور پر ٹوٹی سڑکیں، بدترین ٹریفک جام، بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ، پانی کی عدم دستیابی اور خستہ حال انفراسٹرکچر کے لیے جانا جاتا ہے حال ہی میں ایک غیر متوقع موازنے کی وجہ سے خبروں میں آ گیا ہے۔ اسے دنیا کے مشہور اور رومانوی شہروں میں سے ایک پیرس سے تشبیہ دی گئی جس نے لوگوں کو حیرت میں ڈال دیا۔
ایک ٹی وی پروگرام کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما شرمیلا فاروقی نے ایک ایسا بیان دیا جس نے ناظرین کو تفریح اور حیرت دونوں میں مبتلا کر دیا۔ ان کا یہ اندازہ سن کر یہ سوال بھی اٹھا کہ آیا یہ محض مزاح تھا، رجائیت تھی یا ایک غیر متوقع رائے۔
یہ واقعہ ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں پیش آیا جہاں میزبان نے ایک دلچسپ سیگمنٹ کے دوران شرکاء سے سوالات کیے۔ اسی حصے میں ایک جملے کو مکمل کرنے کی سرگرمی رکھی گئی تھی جس میں میزبان نے پوچھا کہ کراچی میں رہنا ایسے ہے جیسے ____ میں رہنا۔
اس سوال کے جواب میں شرمیلا فاروقی نے کچھ لمحے توقف کے بعد کہا کہ کراچی میں رہنا پیرس میں رہنے کے مترادف ہے۔ ان کے اس جواب پر اسٹوڈیو میں موجود سابق کرکٹرز اور دیگر مہمان مسکرا اٹھے اور تالیاں بجا کر ردعمل دیا۔
واضح رہے کہ عالمی معیارِ زندگی کے مختلف اشاریوں میں کراچی کو اکثر کم رہائشی سہولتوں والے شہروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ شہر کو بنیادی ڈھانچے کے مسائل، ٹریفک دباؤ اور سیکیورٹی چیلنجز کی وجہ سے مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔
اس کے علاوہ کراچی میں شہری تحفظ کے حوالے سے بھی خدشات پائے جاتے ہیں جہاں اسٹریٹ کرائم اور گھریلو ڈکیتیوں جیسے مسائل عام تصور کیے جاتے ہیں۔ پانی کی فراہمی بھی کئی علاقوں میں باقاعدہ نظام کے تحت نہیں ہوتی جس کے باعث شہری مہنگے ٹینکر سسٹم پر انحصار کرتے ہیں۔
بجلی کی بندش اور لوڈشیڈنگ بھی معمول کا حصہ رہی ہے اگرچہ حالیہ برسوں میں کچھ امیر طبقے میں سولر توانائی کا استعمال بڑھا ہے۔ ساتھ ہی کراچی دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں بھی شمار ہوتا ہے جہاں فضائی آلودگی اور کچرے کے انتظام کے مسائل نمایاں ہیں۔
یہ دلچسپ بیان سوشل میڈیا پر بھی موضوع بحث بن گیا اور صارفین نے اس پر مختلف انداز میں ردعمل دیا۔




گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








