سوشل میڈیا پر پھیلنے والی افواہوں اور دلچسپ قیاس آرائیوں نے ایک نیا سوال کھڑا کر دیا ہے کہ کیا پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی مستقبل میں انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کی قیادت سنبھال سکتے ہیں؟ یہ بحث مختلف آن لائن پلیٹ فارمز پر زور پکڑ رہی ہے اور کرکٹ شائقین کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔
گزشتہ کچھ عرصے کے دوران سوشل میڈیا پوسٹس اور مختلف اگریگیٹرز کی جانب سے یہ دعوے سامنے آئے ہیں کہ ممکنہ طور پر وہ 2028 سے 2032 کے عرصے میں جے شاہ کی جگہ آئی سی سی چیئرمین بن سکتے ہیں تاہم حقیقت کی جانچ کرنے والے ماہرین ان دعوؤں کو غیر مصدقہ، اندازوں پر مبنی اور زیادہ تر کلک بیٹ قرار دیتے ہیں۔ اب تک آئی سی سی کی طرف سے نہ کسی جانشین کا اعلان کیا گیا ہے اور نہ ہی کسی باضابطہ نامزدگی کے عمل کی تصدیق ہوئی ہے۔
ٹی وی انٹرویوز اور مختلف میڈیا پلیٹ فارمز پر جب محسن نقوی سے اس بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے ان خبروں کی نہ تو تصدیق کی اور نہ ہی تردید میں کوئی واضح مؤقف اپنایا۔ وہ عموماً گفتگو کا رخ ملکی کرکٹ سے متعلق انتظامی امور کی طرف موڑ دیتے ہیں جن میں پاکستان سپر لیگ کی سیکیورٹی، پی سی بی اور حکومتی رابطہ کاری، اور آئی سی سی سطح پر پاکستان کی نمائندگی جیسے معاملات شامل ہیں۔
ان کے نام کے بار بار سامنے آنے کی ایک بڑی وجہ بین الاقوامی کرکٹ ڈپلومیسی میں ان کی سرگرم شمولیت سمجھی جاتی ہے خاص طور پر ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 سے متعلق بات چیت اور مختلف کرکٹ بورڈز کے ساتھ روابط۔ اس کے باوجود کسی بھی مستند ذریعہ نے انہیں آئندہ آئی سی سی چیئرمین کے طور پر نامزد نہیں کیا۔ نتیجتاً یہ ساری بحث فی الحال محض قیاس آرائی پر مبنی ہے اور حتمی حقیقت کسی باضابطہ اعلان تک واضح نہیں ہو سکتی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








