طیارہ حادثے کی رپورٹ پیش نہ کرنے پر سندھ ہائیکورٹ سول ایوی ایشن پربرہم

تازہ ترین

تازہ ترین

PK-8303 tragedy

کراچی : سندھ ہائی کورٹ نے پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کے طیارے کے حادثے سے متعلق تحقیقاتی رپورٹ پیش نہ کرنے پر سول ایوی ایشن اتھارٹی پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔

حادثے کی تحقیقات سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے سول ایوی ایشن اتھارٹی کو نئے نوٹسز جاری کردیئے ہیں۔ جسٹس عمر سیال نے سول ایوی ایشن سے استفسار کیاکہ انہوں نے عدالت میں رپورٹ کیوں نہیں پیش کی؟۔

ہائیکورٹ کے جج نے کہا کہ سول ایوی ایشن کو تحقیقات رپورٹ عدالت میں پیش کرنی چاہیے تھی، تسلی بخش جواب نہ ملنے پر عدالت نے سول ایوی ایشن پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔

اس سے قبل وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور خان نے قومی اسمبلی میں پی آئی اے کے طیارے کے حادثے سے متعلق ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ پیش کی تھی۔

مزید پڑھیں:پائلٹ اور ایئر ٹریفک کنٹرولر پی آئی اے طیارہ حادثے کے ذمہ دار قرار، رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش

ایوان میں تقریر کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے حادثے کے لئے ہوائی جہاز کے کپتان ، عملے اور ایئر ٹریفک کنٹرولر کو مورد الزام ٹھہرایا تھا جبکہ پی آئی اے اور سی اے اے کو بھی اس طرح کے حادثات کی روک تھام میں غلطیوں کی وجہ سے ذمہ دار قرار دیا گیا تھا۔

Related Posts