شیخ حسینہ کے ڈھاکہ سے فرار ہو کر بھارت پہنچنے کے 48 گھنٹے سے زائد گزرنے کے بعد بھی ان کی آخری منزل غیر یقینی ہے۔
ہندوستانی میڈیا رپورٹس کے مطابق برطانیہ اور امریکہ کے دروازے فی الحال ان کے لیے بند ہیں، جس کے بعد وہ دوسرے آپشنز تلاش کر رہی ہیں۔
بنگلہ دیش کے معروف انگریزی اخبار ڈیلی آبزرور نے ہندوستانی میڈیا آؤٹ لیٹ دی ہندو کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ سابق وزیر اعظم پہلے ہی برطانیہ میں سیاسی پناہ حاصل کرنے کی کوشش میں ناکام ہو چکی ہیں۔ نتیجتاً اب وہ متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور فن لینڈ میں پناہ لینے پر غور کر رہی ہیں۔
تاہم ان کے بیٹے سوجیب واجد جوئے نے کہا کہ ان کی والدہ نے کہیں بھی پناہ نہیں مانگی ہے۔ انڈین میڈیا ادارے کو انہوں نے بتایا کہ وہ شاید ان جگہوں کا سفر کر رہی ہوں جہاں خاندان کے افراد رہتے ہیں، جیسے امریکہ، برطانیہ، فن لینڈ اور ہندوستان۔
جوئے نے مزید بتایا کہ وہ واشنگٹن میں رہتے ہیں، ان کی خالہ ریحانہ لندن میں ہیں اور ان کی بہن (شیخ حسینہ کی بیٹی) دہلی میں رہتی ہیں، اس لیے وہ ابھی تک اپنی والدہ کے صحیح ٹھکانے کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے۔
سی این این سے وابستہ نیوز 18 نے بنگلہ دیشی اپوزیشن کے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ امریکہ نے حسینہ واجد کا ویزا منسوخ کر دیا ہے، تاہم امریکہ نے ابھی تک اس دعوے کی صداقت پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
گزشتہ دن خبر آئی تھی کہ شیخ حسینہ مزید کچھ دن بھارت میں رہیں گی، تاہم یہ ابھی تک معلوم نہیں ہے کہ نئی دہلی انہیں کب تک رہنے کی اجازت دے گا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








