رکنِ قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے پاکستان تحریکِ انصاف اور اس کے سوشل میڈیا بریگیڈ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ سیاست دلیل، برداشت اور کردار سے چلتی ہے، ٹرولز، گالیوں اور ہجوم کے شور سے نہیں۔
اپنے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) بیان میں شیر افضل مروت نے کہا کہ ان کے خلاف جس انداز میں کردار کشی کی مہم چلائی جا رہی ہے، وہ اسی سیاسی کلچر کا تسلسل ہے جسے برسوں سے چند نام نہاد سوشل میڈیا ٹرولز نے پروان چڑھایا۔ انہوں نے کہا کہ مسلسل گالم گلوچ، بہتان تراشی، تضحیک اور دھونس کے ذریعے ہر اختلافی آواز کو دبانے کی کوشش کی گئی۔
شیر افضل مروت نے واضح کیا کہ وہ اب پاکستان تحریکِ انصاف کا حصہ نہیں، اس لیے ان پر کسی جماعتی ڈسپلن کی اخلاقی یا سیاسی پابندی عائد نہیں ہوتی۔ ان کا کہنا تھا کہ اختلافِ رائے کو غداری اور سوال اٹھانے کو بغاوت قرار دینا سیاسی عدم برداشت کی بدترین شکل ہے۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان کی غیر منصفانہ سزا کا حوالہ دینے کا مقصد کسی کی توہین نہیں تھا بلکہ صرف اس قانونی اصول کی نشاندہی کرنا تھا جو سپریم کورٹ نے 2018 میں میاں نواز شریف کے خلاف طے کیا تھا۔ شیر افضل مروت نے کہا کہ قانون شخصیات کے تابع نہیں بلکہ شخصیات قانون کے تابع ہوتی ہیں۔
پی ٹی آئی سوشل میڈیا بریگیڈ پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ برسوں میں اختلاف کرنے والوں کو گالیاں دینا، کردار کشی کرنا، جعلی مہمات چلانا اور خاندانوں تک کو نشانہ بنانا ایک کھلا راز بن چکا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ علیمہ خان کے زیرِاثر چلنے والی مہمات کے باوجود وہ ہمیشہ عمران خان کے ساتھ کھڑے رہے۔
شیر افضل مروت نے شکوہ کیا کہ پارٹی قیادت یا ذمہ دار حلقوں نے ان کی بات سننے یا مؤقف جاننے کے بجائے سوشل میڈیا ٹرولز کو متحرک کردیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اختلاف تھا تو دلیل سے جواب دیا جاتا، گفتگو کی جاتی یا نظرِ ثانی کی درخواست دائر کی جاتی، مگر ہر طرف سے صرف گالم گلوچ سننے کو ملی۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ دھمکیوں، ٹرولنگ اور کردار کشی سے انہیں خاموش کرایا جا سکتا ہے تو یہ خام خیالی ہے۔ شیر افضل مروت نے کہا کہ ان کا ردعمل ایسا ہوگا جو مخالفین کو بے چین بھی کرے گا اور بہت کچھ سوچنے پر مجبور بھی کرے گا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








