سائنسدانوں نے اب تک کا چمکدار ترین سیارہ دریافت کر لیا ہے جسے کائنات کا سب سے بڑا آئینہ اور گرم ترین نیپچون قرار دیا جارہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق ای ایس اے کے چیوپس مشن نے ایل ٹی ٹی 9779 بی کے نام سے ایک سیارہ دریافت کیا ہے جو انتہائی گرم اور بے حد چمکدار ہے۔ ایگزو پلانیٹ کے دھاتی بادلوں کے باعث اس کی منعکس کرنے کی صلاحیت 80فیصد ہوچکی ہے۔
تھریڈز پر صارفین کی تعداد 10 کروڑ سے تجاوز کرگئی
ناسا کے فلکیات دانوں نے بھی چیوپس مشن کے دریافت کردہ سیارے کی جانب سے 80فیصد انعکاس کی تصدیق کردی جبکہ یہ سیارہ ہمارے نظامِ شمسی میں موجود سیارے نیپچون کے حجم کے لگ بھگ ہے جس کے باعث اسے کائنات کا سب سے بڑا آئینہ کہا جاسکتا ہے۔
فلکیات دانوں کا کہنا ہے کہ دریافت شدہ سیارے کی آئینے کی طرح چمکدار نظر آنے والی سطح اس کے دھاتی بادلوں کے باعث ہے جو سیلیکیٹ اور ٹائٹینیم جیسی دھاتوں پر مشتمل ہیں۔ عموماً اس سیارے کا درجۂ حرارت 2000 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا پہنچتا ہے۔
شدید گرمی کے باعث اس سیارے کی فضا میں سیلیکیٹ اور دھاتیں بخارات کی صورت میں اڑتی نظر آتی ہیں۔ ایل ٹی ٹی 9779 بی کو انتہائی گرم نیپچون بھی کہا جارہا ہے کیونکہ یہ اپنے حجم اور نوعیت کے اعتبار سے کہیں زیادہ گرم ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ تاحال کوئی اور اسی سائز اور حجم کا سیارہ اپنے ستارے کے اتنے قریب نہیں پایا گیا، جتنا کہ یہ سیارہ نظر آتا ہے۔ اپنے ستارے کا قریب ترین مدار اور شدید درجۂ حرارت اس سیارے کو حیرت انگیز قرار دینے کیلئے کافی ہے۔
عموماً اتنے شدید درجۂ حرارت کے باعث فلکیات دانوں کو خدشہ رہتا ہے کہ ایسے سیارے اپنے ماحول سمیت ہوا میں یا پھر اپنے ستارے میں تحلیل ہوجائیں گے، تاہم اس سیارے کے ساتھ ایسا نہیں ہوا۔ سیارے پر دھاتی بادلوں کی موجودگی اس کے اندرونی حصے کو شدید گرمی سے بچاتی ہے جس کے نتیجے میں یہ سیارہ تاحال اپنے ستارے کے گرد سلامت ہے اور گردش بھی کر رہا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








