کراچی والے دودھ کے نام پر کونسا زہریلا مواد استعمال کر رہے ہیں، عدالت میں ہوشربا انکشاف

تازہ ترین

تازہ ترین

علامتی فوٹو

کراچی میں فروخت ہونے والا دودھ حفظان صحت کے حوالے سے غیر محفوظ ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

بدھ کے روز شہر کے کمشنر کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹ کے مطابق سندھ ہائی کورٹ (SHC) کو بتایا گیا کہ شہر سے جمع کیے گئے تمام دودھ کے نمونے حفاظتی معیارات پر پورا نہیں اُترے۔

پاکستان اسٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی (PSQCA) کے مطابق لیبارٹری ٹیسٹس میں 22 نمونوں میں فارملین اور 8 نمونوں میں فاسفیٹ پایا گیا۔ یہ نتائج دودھ کی سپلائی چین میں وسیع پیمانے پر ملاوٹ اور غیر محفوظ ہینڈلنگ کی نشاندہی کرتے ہیں۔

دو رکنی بینچ کے سامنے جس کی سربراہی جسٹس عدنان اقبال چودھری کر رہے تھے، رپورٹ میں بتایا گیا کہ کسانوں، ہول سیلرز اور ریٹیلرز کی صفائی کے طریقے عوامی صحت کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ دودھ کے ریٹیلرز کی ایک ایسوسی ایشن نے پہلے شہر بھر میں معائنہ کی درخواست کی تھی اور اس ڈرائیو کے دوران جمع کیا گیا کوئی بھی نمونہ PSQCA کے معیار پر پورا نہیں اُترا۔

کمشنر نے مزید کہا کہ دودھ کی قیمت بڑھانے کی کوئی وجہ نہیں ہے، خاص طور پر سردیوں میں جب ڈیری مصنوعات کی طلب عام طور پر کم ہوتی ہے۔ 27 نومبر کو جاری نوٹیفکیشن کے مطابق فی لیٹر ریٹیل قیمت 220 روپے مقرر کی گئی اور تمام ایسوسی ایشنز کو ہدایت کی گئی کہ وہ اس نرخ پر عمل کریں اور نئے ہائجین SOPs پر عمل درآمد کریں۔

یہ کیس 2023 میں دائر کی گئی ایک درخواست سے شروع ہوا تھا، جس میں ایک ڈیری فارم کے مالک نے دعویٰ کیا تھا کہ سرکاری قیمت حکومت کے فارمولا کے مطابق لگائی گئی لاگت سے کم ہے۔ تازہ ترین رپورٹ پر کسی نمائندے کی جانب سے کوئی چیلنج نہ آنے پر، SHC نے رپورٹ کو ریکارڈ کا حصہ بنا کر درخواست کو نمٹا دیا۔

Related Posts