بھارتی ریاست ہریانہ میں مشہور پنجابی گلوکار سدھو موسے والا کے مجسمے پر نامعلوم افراد نے فائرنگ کر دی جس سے سوشل میڈیا پر شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔
یہ مجسمہ گزشتہ سال جن نائک جنتا پارٹی (جے جے پی) کے ریاستی صدر دگ وجے چوٹالہ نے نصب کیا تھا۔
واقعے کے بعد میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک ویڈیو کلپ جس میں مبینہ طور پر مجسمے پر فائرنگ کے مناظر دکھائے گئے، ایک بیرون ملک نمبر سے چوٹالہ کو بھیجا گیا۔ اس پیغام میں مبینہ طور پر دھمکیاں بھی شامل تھیں کہ سدھو موسے والا کے حامیوں کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
یاد رہے کہ اپنے بے باک اور عوامی حمایت یافتہ گانوں کی وجہ سے مشہور سدھو موسے والا کو 2022 میں گینگ وار کے دوران گولیاں مار کر قتل کر دیا گیا تھا۔ ان کی ہلاکت نے نہ صرف بھارت بلکہ دنیا بھر میں پنجابی کمیونٹی کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔
اس افسوسناک واقعے پر سدھو موسے والا کی والدہ چرن کور نے شدید دکھ اور غم کا اظہار کیا۔
انہوں نے انسٹاگرام پر پنجابی زبان میں ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ یہ صرف میرے بیٹے کے مجسمے پر حملہ نہیں بلکہ اس کی یاد، آواز اور نظریے پر وار ہے۔ یہ میری روح پر ایک زخم ہے۔
چرن کور نے مزید لکھا کہ میرا بیٹا عوام کی آواز تھا، اور آج بھی اسے خاموش کرانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، حالانکہ وہ رب کے پاس جا چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان کے بیٹے کی یاد آج بھی ظلم کے خلاف مزاحمت کی علامت ہے اور ایک دن انصاف ضرور ہوگا۔ہماری خاموشی کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔
واقعے کے بعد سرسا ضلع کے علاقے ڈبوالی میں پولیس نے مقدمہ درج کر لیا ہے اور فائرنگ اور دھمکیوں کی مکمل تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مجسمے کو نقصان پہنچانے والوں کی شناخت اور گرفتاری کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








