چالان، گاڑیوں کی بندش، سیاسی مخالفت میں اضافہ! نئی نمبر پلیٹ پالیسی پر کراچی میں شدید عوامی ردعمل

تازہ ترین

تازہ ترین

IG Sindh announces heavy fines for driving without license in Karachi
FILE PHOTO

کراچی: سندھ حکومت کی جانب سے تمام رجسٹرڈ گاڑیوں پر سندھ کی نئی نمبر پلیٹس لازمی کرنے کے فیصلے نے کراچی میں شدید عوامی غم و غصے اور بدانتظامی کو جنم دیا ہے۔

حکومت کا مؤقف ہے کہ اس اقدام کا مقصد گاڑیوں کی چوری کی روک تھام اور ٹیکس وصولی کے نظام کو بہتر بنانا ہے تاہم عملی طور پر یہ فیصلہ شہریوں کے لیے مسائل کا سبب بن گیا ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کراچی میں 35 لاکھ موٹر سائیکلیں اور 23 لاکھ کاریں رجسٹرڈ ہیں جس کے باعث اس نئی پالیسی کا اطلاق ایک بڑا انتظامی چیلنج بن چکا ہے۔

ایک طرف شہریوں کو کئی کئی گھنٹے لمبی قطاروں میں کھڑا رہنا پڑ رہا ہے تو دوسری طرف نمبر پلیٹس کے اجرا میں غیر معمولی تاخیر اور ٹریفک پولیس کی سختی نے شہریوں کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔

محکمہ ایکسائز کی جانب سے واضح ہدایات نہ دیے جانے کے باعث شہری مکمل طور پر ٹریفک پولیس کے رحم و کرم پر ہیں۔ صرف دو ماہ کے اندر 52 ہزار سے زائد چالان جاری کیے جا چکے ہیں جبکہ حالیہ دنوں میں 12 ہزار سے زائد گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں بغیر نئی نمبر پلیٹس کے ہونے کی وجہ سے بند کی جا چکی ہیں۔

سِول سینٹر کا رخ کرنے والے شہریوں کا کہنا ہے کہ انہیں نمبر پلیٹس کے اجرا میں تاخیر کا کہہ کر واپس بھیجا جا رہا ہے۔ ایک محکمہ ایکسائز کے اہلکار کے مطابق گزشتہ دو ماہ میں صرف 500 موٹر سائیکل پلیٹس طلب کی گئیں جبکہ حالیہ دس دنوں میں 5ہزار سے زائد درخواستیں موصول ہو چکی ہیں۔

نئی پلیٹس کی قیمتیں بھی تنقید کی زد میں ہیں ، موٹر سائیکلوں کے لیے 1850 روپے اور کاروں کے لیے 2450 روپے ہے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ پہلے ہی رجسٹریشن فیس ادا کر چکے ہیں اور دوبارہ چارجز غیر منصفانہ ہیں۔

سیاسی رہنماؤں بشمول ایم کیو ایم پاکستان کے فاروق ستار اور جماعتِ اسلامی کے منعم ظفر خان نے اس پالیسی کو منظم بھتہ خوری قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عوام سے زبردستی رقم وصول کی جا رہی ہے اور یہ عوامی استحصال کی بدترین مثال ہے۔

محکمہ ایکسائز نے اگرچہ آن لائن درخواست کی سہولت مہیا کی ہے تاہم شہریوں کا مطالبہ ہے کہ پلیٹس بذریعہ کوریئر ان کے گھروں تک پہنچائی جائیں تاکہ بار بار چکر لگانے سے نجات ملے۔

حکومت کی جانب سے سندھی ثقافت کی نمائندگی کے لیے اجرک تھیم پر مبنی پلیٹس بھی متعارف کرائی گئی ہیں لیکن ناکافی انفراسٹرکچر اور شعور کی کمی کے باعث یہ اقدام بھی عوامی سطح پر منفی ردعمل کا شکار ہو گیا ہے۔

ٹریفک چالانوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے اور شہری مطالبہ کر رہے ہیں کہ جب تک محکمہ ایکسائز پلیٹوں کے اجرا کا نظام مؤثر نہیں بناتا، اس پالیسی کو عارضی طور پر معطل کیا جائے۔

اصلاحات نہ ہونے کی صورت میں یہ مسئلہ مزید بگڑنے کا خدشہ ہے اور عوام کا صوبائی حکومت پر اعتماد کمزور ہوتا جا رہا ہے۔

Related Posts