لاہور کے علاقے جوہر ٹاؤن میں ایک افسوسناک اور ہولناک واقعہ پیش آیا، جہاں ایک نجی فارم ہاؤس میں موجود شیر نے ایک خاندان پر حملہ کر دیا جس کے نتیجے میں دو بچوں سمیت تین افراد شدید زخمی ہو گئے۔
زخمیوں کو فوری طور پر جناح اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں کے مطابق دونوں بچوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
پولیس کے مطابق یہ واقعہ شیر کے لیے بنائے گئے پنجرے کی غیر محفوظ حالت کے باعث پیش آیا جس سے شیر نکل کر فارم ہاؤس میں موجود افراد پر حملہ آور ہو گیا۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ کی ٹیم فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئی اور فارم ہاؤس کو خالی کرا لیا گیا۔
محکمہ وائلڈ لائف کے مطابق شیر نے اپنے پنجرے سے نکل کر دیوار پھلانگی اور رہائشی علاقے میں داخل ہو کر لوگوں پر حملہ کیا۔ اس واقعے کے بعد شیر فرار ہو گیا جس کی تلاش کے لیے وائلڈ لائف کی خصوصی ٹیمیں شاہ دی کھوئی اور دیگر مقامات پر چھاپے مار رہی ہیں۔
تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ یہ شیر ملک اعظم مرتضیٰ المعروف شانی کی ملکیت ہے جو کہ غیر قانونی طور پر بغیر لائسنس کے اپنے ڈیرے پر شیر پال رہا تھا۔
محکمہ وائلڈ لائف کے ترجمان نے تصدیق کی کہ اعظم مرتضیٰ کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے لیے قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق پاکستان میں بغیر لائسنس شیر پالنا ناقابل ضمانت جرم ہے جس کی سزا سات سال قید اور 50 لاکھ روپے جرمانہ ہو سکتی ہے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے سخت قانونی اقدامات کیے جائیں گے تاکہ شہریوں کی جان و مال کو خطرے میں نہ ڈالا جا سکے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








