پاکستان میں رواں ہفتے وائرل ہونے والی دو تصاویر نے ایک بار پھر قانون، انصاف اور ادارہ جاتی برابری پر عوامی بحث کو تیز کر دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر بار بار شیئر ہونے والی ان جھلکیوں کو لوگ ایک ایسے بیانیے کے طور پر دیکھ رہے ہیں جس میں یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا قانون سب کے لیے یکساں ہے یا اثر و رسوخ کے مطابق اس کا رویہ بدل جاتا ہے۔
ایک تصویر میں 75 سالہ سماجی کارکن اور آرٹسٹ شیما کرمانی کو دکھایا گیا ہے جو کراچی پریس کلب کے باہر پولیس اہلکاروں کے حصار میں موجود ہیں۔ وہ خواتین کے حقوق سے متعلق سرگرمی کے لیے پریس کانفرنس کرنا چاہ رہی تھیں کہ اس دوران پولیس نے انہیں اور دیگر کارکنان کو روک کر کچھ دیر کے لیے تحویل میں لے لیا، بعد ازاں اعلیٰ حکام کی ہدایت پر انہیں رہا کر دیا گیا۔ اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر شدید ردعمل سامنے آیا اور بعد میں حکومتی سطح پر بعض اہلکاروں کو معطل بھی کیا گیا۔
اسی کے مقابل دوسری وائرل تصویر میں ایک خاتون کو عدالت کے ایک سادہ سے کمرے میں بیٹھے دیکھا جا سکتا ہے، جہاں ایک عدالتی اہلکار معمول کے کاغذی کارروائی میں مصروف ہے اور ماحول بظاہر رسمی اور پرسکون دکھائی دیتا ہے۔ آن لائن پوسٹس میں اس خاتون کو مبینہ طور پر منشیات کیس کی ملزمہ انمول عرف پنکی قرار دیا گیا اور اس منظر کو مختلف صارفین نے نظام انصاف میں نرمی یا اثر و رسوخ سے جوڑ کر پیش کیا۔
ان دونوں مناظر کے تقابل نے ایک وسیع عوامی بحث کو جنم دیا ہے جس میں کچھ لوگ یہ مؤقف اختیار کر رہے ہیں کہ احتجاج کرنے والوں کے ساتھ سخت رویہ جبکہ بااثر یا مقدمات کا سامنا کرنے والے افراد کے ساتھ نسبتاً نرم طریقہ کار اختیار کیا جاتا ہے۔یہ تاثر پاکستان میں اداروں کے بارے میں پہلے سے موجود شکوک کو مزید تقویت دیتا ہے۔
قانونی ماہرین اور پولیس حکام اس تاثر کو محض دو تصاویر کی بنیاد پر حتمی نتیجہ قرار دینے سے گریز کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ ان کے مطابق عوامی اجتماعات کے لیے اجازت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داریاں مختلف ہوتی ہیں جبکہ عدالتوں میں پیشی کا عمل ایک الگ قانونی طریقہ کار کے تحت چلتا ہے جہاں زیرِ حراست افراد کو عموماً ہتھکڑی نہیں لگائی جاتی۔
حکام یہ بھی کہتے ہیں کہ ہر واقعہ اپنے مخصوص حالات، سکیورٹی جائزے اور موقع کی ضرورت کے مطابق دیکھا جاتا ہے اس لیے ایک احتجاجی صورتحال اور عدالتی کارروائی کا براہ راست موازنہ درست نہیں سمجھا جاتا۔
اس کے باوجود پولیس اہلکاروں کی معطلی جیسے اقدامات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ خود ادارے نے بھی بعض پہلوؤں پر عدم توازن کے خدشات کو تسلیم کیا ہے تاہم اس انکوائری کی مکمل رپورٹ ابھی سامنے نہیں آئی۔
شیما کرمانی کا واقعہ اس وقت سامنے آیا جب ملک میں خواتین کے حقوق کی سرگرمیاں پہلے ہی مختلف رکاوٹوں، اجازت ناموں کے مسائل اور عوامی تنقید کا سامنا کر رہی تھیں۔ اسی ماحول میں یہ تصویر ایک علامت کے طور پر دیکھی گئی جبکہ عدالت کی دوسری تصویر اس کے بالکل برعکس ایک متوازی بیانیہ بن گئی۔
یہ معاملہ سندھ پولیس کے لیے ایک بڑا امتحان بن چکا ہے کہ وہ نہ صرف شفاف تحقیقات کرے بلکہ عوامی اعتماد بحال کرنے کے لیے اپنے طریقہ کار کو بھی واضح انداز میں پیش کرے کیونکہ آج کے دور میں صرف کارروائی نہیں بلکہ اس کی تصویر اور تاثر بھی اتنا ہی اہم ہو چکا ہے۔
آخر میں اصل سوال یہی رہ جاتا ہے کہ کیا قانون واقعی سب کے لیے برابر ہے یا پھر اس کا اطلاق حالات اور افراد کے مطابق بدلتا رہتا ہے اور یہی سوال اس وقت پورے معاشرے میں زیر بحث ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








