نشے کے عادی جج، بیوروکریٹ یا رکن پارلیمنٹ کا نام نہیں لے سکتا! سینیٹ کمیٹی میں پنکی کا چرچا

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

سینیٹ کی داخلہ امور کی قائمہ کمیٹی نے مبینہ کوکین ڈیلر انمول عرف پنکی کے کیس کا نوٹس لیتے ہوئے اہم اداروں کے سربراہان کو طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے چیئرمین کمیٹی سینیٹر فیصل سلیم رحمان نے ہدایت دی کہ انسداد منشیات فورس کے ڈائریکٹر جنرل کو آئندہ اجلاس میں پیش ہو کر وضاحت دینی ہوگی۔ اسی طرح انہوں نے ایف آئی اے کے ڈی جی کو بھی طلب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس بات کا جواب دیں کہ انمول عرف پنکی کس کو منشیات فراہم کرتی تھی اور اس حوالے سے مکمل رپورٹ پیش کی جائے۔

چیئرمین نے اجلاس میں کہا کہ ان کے پاس یہ اختیار نہیں کہ وہ کسی جج، بیوروکریٹ یا رکن پارلیمنٹ کا نام لے کر یہ بتائیں کہ وہ منشیات کے استعمال یا ترسیل میں ملوث تھے۔ ان کے مطابق اگر ایسا اختیار ہوتا تو وہ اس جج کے بارے میں بھی سوال اٹھاتے جس نے انمول کو ضمانت دی۔

انہوں نے مزید کہا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ جن افراد کو مبینہ طور پر انمول منشیات فراہم کرتی تھی انہیں بحالی مراکز بھیجا جائے تاکہ ان کی نگرانی اور علاج ممکن بنایا جا سکے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب کراچی میں مختلف تحقیقاتی ٹیمیں انمول عرف پنکی کے کیس کی تفتیش کر رہی ہیں، جسے گارڈن کے علاقے سے کوکین، کیمیکل اور اسلحے سمیت گرفتار کیا گیا تھا۔ اس کے خلاف بغدادی تھانے میں قتل کا مقدمہ بھی سامنے آیا ہے جبکہ شہر میں اس کیس کی تفتیش کے لیے تین پولیس کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں۔

دوسری جانب سندھ کے وزیر داخلہ کی جانب سے اعلان کردہ جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (JIT) تاحال باضابطہ طور پر تشکیل نہیں دی جا سکی۔

Related Posts