کراچی: وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ صوبہ سندھ ممکنہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار ہے اور 8 لاکھ سے 11 لاکھ کیوسک پانی کو سنبھالنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔
سندھ سیکریٹریٹ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے بتایا کہ چار روز قبل قادرآباد بیراج پر 10 لاکھ 77 ہزار کیوسک پانی پہنچ چکا تھاجو پنجند کے مقام پر یکجا ہو کر کوٹ مٹھن سے دریائے سندھ میں داخل ہوا۔
انہوں نے کہا کہ این ڈی ایم اے کی پیشگوئی کے مطابق 5 ستمبر کے قریب گڈو بیراج پر 8 لاکھ سے 11 لاکھ کیوسک پانی پہنچ سکتا ہے جبکہ 9 لاکھ کیوسک سے زائد پانی کو سپر فلڈ قرار دیا جاتا ہے۔
وزیراعلیٰ نے یقین دہانی کرائی کہ سندھ حکومت نے حفاظتی بند مضبوط کر دیے ہیں، 24 گھنٹے مانیٹرنگ کیمپس قائم کیے گئے ہیں اور ایمرجنسی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہماری سب سے بڑی ذمہ داری انسانی جانوں، مویشیوں اور بیراجوں کا تحفظ ہے، اسی لیے حساس مقامات کو مزید محفوظ بنایا گیا ہے اور محکمہ صحت کو بھی ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ 24 اگست کو گڈو بیراج سے 5 لاکھ 50 ہزار کیوسک پانی گزر چکا ہے اور کوئی تشویشناک صورتحال پیدا نہیں ہوئی۔
وزیراعلیٰ نے بتایا کہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ادارہ جاتی ڈھانچے میں 1970 کی دہائی سے مسلسل بہتری آئی ہے اور اب این ڈی ایم اے اور پی ڈی ایم اے فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔ صوبائی وزراء کو دریائے سندھ کے بائیں اور دائیں کناروں کی نگرانی کی ذمہ داری بھی سونپی گئی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ پنجاب میں بلند پانی کی سطح دریائے چناب، راوی اور ستلج کے باعث ہے اور اس پانی کو کسی صورت کالا باغ کی طرف موڑا نہیں جا سکتا۔مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ حکومت 8 لاکھ سے 11 لاکھ کیوسک تک کے پانی سے نمٹنے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھا رہی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








