رواں سال کا آخری سورج گرہن آج پاکستان سمیت مختلف ممالک بشمول افریقہ، آسٹریلیا اور متعدد ایشیائی ممالک میں دکھائی دے گا جبکہ ماہرین کے مطابق پاکستان میں ہونے والا سورج گرہن شاید مکمل طور پر سورج کو نہ ڈھانپ سکے۔
علمِ فلکیات سے تعلق رکھنے والے بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ سورج پاکستان میں مکمل طور پر اندھیرا نہیں کرے گا بلکہ اس سے آگ کا ایک حلقہ ترتیب پائے گا جسے آگ کی انگوٹھی یعنی رِنگ آف فائر کا نام دیا گیا ہے۔
ماہرینِ فلکیات کے مطابق سورج زمین اور چاند کے مقابلے میں بے انتہا بڑا ہے اور یہ ممکن ہی نہیں کہ چاند اس کی روشنی کو مکمل طور پر روک سکے، تاہم ایسا ضرور ہوتا ہے کہ کچھ وقت کے لیے چاند سورج اور زمین کے درمیان آجاتا ہے۔
سورج گرہن سے مراد چاند کا سورج اور زمین کے درمیان اس طرح آنا ہے کہ کچھ وقت کے لیے سورج کی روشنی پر چاند کا سایہ غالب آجائے۔
رواں سال آخری بار ہونے والا سورج گرہن صبح 7 بج کر 30 منٹ پر شروع ہوگا جو وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتا جائے گا اور ٹھیک 8 بج کر 37 منٹ پر چاند کا سایہ سورج کو مکمل طور پر ڈھانپ لے گا، تاہم یہ نظارہ پاکستان میں قابلِ دید نہیں۔
ماہرین کے مطابق پاکستانی عوام رنگ آف فائر دیکھنے کے قابل نہیں ہوں گے، یعنی سورج کے سامنے چاند اس طرح آئے گا کہ اس سے آگ کی انگوٹھی بنتی ہوئی نظر آئے گی جسے آگ کے حلقے کا نام بھی دیا جاسکتا ہے جو دیگر ممالک میں دیکھا جاسکے گا۔
پاکستان میں سوشل میڈیا صارفین سورج گرہن کا بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں جبکہ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر سولر اکلپس (سورج گرہن) ٹاپ ٹرینڈ بن چکا ہے۔
صارفین کی طرف سے سورج گرہن کے بارے میں مختلف آراء کا اظہار جاری ہے جبکہ اس حوالے سے ویڈیوز بھی شیئر کی جارہی ہیں۔ سورج گرہن کے فطری نظارے میں عوام کی دلچسپی بڑھتی جا رہی ہے۔