گرمیوں کے موسم کے آغاز سے قبل ہی ملک میں سولر پینلز کی مانگ میں اضافے کی وجہ سے سولر پینلز کی قیمتوں نے بھی اڑان بھرنا شروع کر دی ہے۔
مارکیٹ میں موجود ڈیلرز کے مطابق سولر پینلز کی قیمت حالیہ دنوں میں 75,000 سے بڑھ کر 300,000 روپے ہوگئی ہے۔ ڈیلرز کے مطابق 7 کلو واٹ سسٹم جس کی قیمت پہلے 8 لاکھ 50 ہزار روپے تھی، اب اس کی قیمت 9 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔
اسی طرح 10 کلو واٹ کے سولر پینل سسٹم کی قیمت 11 لاکھ سے بڑھ کر 12 لاکھ پچاس ہزار ہوگئی ہے۔
مزید برآں 12 کلو واٹ سسٹم کی قیمت واضح اضافے کے ساتھ 14 لاکھ سے 16 لاکھ روپے ہوگئی ہے، جبکہ 15 کلو واٹ سسٹم 18 لاکھ تک جا پہنچی ہے۔
یہ بات واضح ہے کہ قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے گرڈ سے منسلک سولر پینل سسٹمز متاثر ہوسکتے ہیں، جس میں ہائبرڈ سیٹ اپ کے اضافی اخراجات ہوتے ہیں، جن میں توانائی ذخیرہ کرنے کے لیے بیٹریاں شامل ہوتی ہیں، ان اخراجات کے ساتھ سولر پینلز کی قیمت میں اضافہ سولر سسٹم کے فروغ کی راہ میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔
پاکستان میں سولر پینل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کی وجہ مختلف معاشی عوامل اور ملک کے اندر سیاسی عدم استحکام ہے۔ نئی حکومت کو اس حوالے سے خصوصی توجہ دینا ہوگی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








