معروف بھارتی فلم پروڈیوسر بونی کپور نے اپنی مرحومہ اہلیہ اور مشہور اداکارہ سری دیوی کی جائیداد پر مبینہ طور پر ناجائز قبضے کے خلاف مدراس ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا ہے۔
بونی کپور نے عدالت میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ تین افراد نے دھوکہ دہی کے ذریعے سری دیوی کی خریدی ہوئی جائیداد اپنے نام کروالی ہے حالانکہ یہ جائیداد سری دیوی نے اپنی ذاتی محنت اور آمدنی سے 1988 میں خریدی تھی۔
درخواست گزار کے مطابق یہ جائیداد ایم سی سمبند مدلیار نامی شخص سے خریدی گئی تھی، جس وقت اس کے بچے (تین بیٹے اور دو بیٹیاں) قانونی وارث کے طور پر موجود تھے اور انہی کے وراثتی دستاویزات دیکھ کر خریداری کی گئی تھی۔
حالیہ دنوں میں مدلیار کی دوسری بیوی سے ہونے والے بیٹوں نے دعویٰ کیا کہ وہ بھی جائیداد میں حق رکھتے ہیں۔ ان افراد نے تحصیلدار کے دفتر میں درخواست دی جس پر بونی کپور کے مطابق حکام نے غیر قانونی طور پر فیصلہ ان کے حق میں دے دیا اور جائیداد کی ملکیت ان کے نام منتقل کر دی گئی۔
بونی کپور نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ یہ فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے اور جو کاغذات پیش کیے گئے وہ جعلی ہیں انہیں مسترد کیا جائے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ جب سری دیوی زندہ تھیں تب ہی مدلیار نے دوسری شادی کی تھی لہٰذا اس بنیاد پر دوسری بیوی کے بچوں کے دعوے کی قانونی حیثیت مشکوک ہے۔
مدراس ہائی کورٹ کے جج جسٹس آنند وینکٹیش نے اس معاملے پر چار ہفتوں میں فیصلہ دینے کی ہدایت دی ہے اور ساتھ ہی تامبرم تعلقہ کے تحصیلدار سے وضاحت طلب کر لی ہے۔
واضح رہے کہ بونی کپور اور سری دیوی کی شادی 1996 میں ہوئی تھی، ان کے دو بچے ہیں۔ سری دیوی 2018 میں دنیا سے رخصت ہو گئی تھیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








