ابوظہبی کے سیاحتی اشتہار میں بالی وڈ جوڑی سوناکشی سنہا اور ظہیر اقبال کی شیخ زاید گرینڈ مسجد میں بنائی گئی ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا پر توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔
ویڈیو کو سوناکشی نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر شیئر کیا جس میں وہ اور ظہیر مسجد کے دلکش صحن اور شاہانہ راہداریوں میں نہایت پرسکون انداز میں گھومتے دکھائی دے رہے ہیں۔
سوناکشی نے ویڈیو کے ساتھ کیپشن میں لکھا کہ یہاں ابو ظہبی میں سکون کا ایک لمحہ پایا!
ویڈیو میں سوناکشی سنہا نے سبز اور سفید رنگ کا نفیس کرتا پاجامہ زیب تن کیا ہے جبکہ ان کے سر پر ہلکے سبز دوپٹے سے احتراماً پردہ کیا گیا ہے۔
ظہیر اقبال نے سیاہ قمیص اور سبز پتلون پہن رکھی ہے جس سے دونوں کا مجموعی انداز مسجد کی خوبصورتی سے ہم آہنگ دکھائی دیتا ہے۔
ابتدائی طور پر مداحوں نے جوڑے کے انداز اور ویڈیو کے روح پرور مناظر کو بے حد پسند کیا۔ ایک صارف نے تبصرہ کیا: “آپ کا لباس اس جگہ کے حسن سے مکمل طور پر مطابقت رکھتا ہے۔
جلد ہی تبصروں کا رخ ایک نئی بحث کی طرف مڑ گیا جب سوناکشی کی ویڈیو کا موازنہ دپیکا پڈوکون کے حالیہ ابو ظہبی ٹورازم اشتہار سے کیا جانے لگا جس میں دپیکا نے حجاب پہنا تھا اور تنقید کا نشانہ بنی تھیں۔
ایک صارف نے دوہرا معیار اجاگر کرتے ہوئے لکھا کہ سوناکشی کے لیے یہ نارمل ہے مگر دپیکا کے لیے نہیں؟ دونوں نے مسجد کا احترام کرتے ہوئے سر ڈھانپا تو پھر مسئلہ کیا ہے؟ لوگوں کو دوسروں کی عبادت گاہوں کے احترام پر اعتراض کیوں؟ایک صارف نے لکھا کہ سونا کشی سنہا مسلمان ہونے والی ہیں۔
دوسرے صارفین نے بھی یہی مؤقف اپناتے ہوئے کہا کہ عبادت گاہ میں سر ڈھانپنا احترام اور روحانیت کی علامت ہے، چاہے انسان کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتا ہو۔
یہ ویڈیو ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سوناکشی اور ظہیر اپنی شادی کے بعد ایک پرسکون زندگی گزار رہے ہیں۔ دونوں نے گزشتہ سال 23 جون 2024 کو ممبئی میں ایک سادہ تقریب میں شادی کی تھی، جس کے بعد ایک ستاروں سے سجی دعوت بھی رکھی گئی تھی۔
پیشہ ورانہ طور پر سوناکشی حال ہی میں نفسیاتی تھرلر فلم نکیتا رائے میں جلوہ گر ہوئیں، جو ان کے بھائی کش سِنہا کی ہدایتکاری میں ریلیز ہوئی۔
اب وہ تیلگو فلم جاتادھارا میں سدھیر بابو کے ساتھ مرکزی کردار ادا کر رہی ہیں، جو 7 نومبر 2025 کو سینما گھروں میں نمائش کے لیے پیش کی جائے گی۔
سوناکشی کی یہ ویڈیو نہ صرف فنکارانہ خوبصورتی اور ثقافتی ہم آہنگی کی عکاسی کرتی ہے بلکہ اس نے سوشل میڈیا پر یہ بحث بھی جنم دی ہے کہ مشہور شخصیات کے مذہبی احترام کو عوامی رائے کے پیمانوں پر مختلف انداز میں کیوں پرکھا جاتا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








