نارتھ ساؤنڈ: ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2024 کے سپر 8 مرحلے کے پہلے میچ میں آج جنوبی افریقہ کا سر ویوین رچرڈز اسٹیڈیم میں امریکا سے مقابلہ ہوگا۔
ایڈن مارکرم کی قیادت میں پروٹیز یقینی طور پر پراعتماد ہیں کیونکہ انہوں نے اپنے تمام گروپ میچز جیتے تاہم وہ اپنی جدوجہد کرنے والی بیٹنگ لائن اپ کی وجہ سے پریشانی سے دوچار ہیں۔
امریکا میں اپنے تمام میچز کھیلنے کے بعد پروٹیز کیریبین کنڈیشنز کے لیے اجنبی ہیں اور انہیں اپنی سپر 8 مہم شروع کرنے کے لیے حالات کا غور سے جائزہ لینا ہوگا۔
امریکا نے اپنی ورلڈ کپ مہم کا آغاز کینیڈا کے خلاف زبردست جیت کے ساتھ کیا جہاں انہوں نے 17.4 اوورز میں 195 رنز کے بڑے ہدف کا تعاقب کیا۔
انہوں نے ایک سنسنی خیز سپر اوور کے بعد پاکستان کو ہرایا جبکہ آئرلینڈ کے خلاف میچ بھارت کے خلاف شکست کے بعد ختم ہو گیا۔
امریکا یقینی طور پر اپنے کپتان موننک پٹیل پر اعتماد کرے گا کہ وہ ایک بار پھر قدم اٹھائیں اور کامیابی کی طرف سفر جاری رکھیں گے اور آرون جونز، جنہوں نے کینیڈا کے خلاف تاریخ کی کتابوں میں اپنا نام لکھوایا وہ بھی کامیابی کیلئے پرامید ہیں۔بولنگ میں انہیں سوربھ نیتراولکر اور علی خان سے بہت زیادہ امیدیں ہوں گی۔
جنوبی افریقہ کے پاس غلطی کی کوئی گنجائش نہیں ہوگی کیونکہ اس کے عالمی معیار کے بلے باز اپنے ابتدائی سپر ایٹ میچ میں امریکا کے خلاف کامیابی کے حواہاں ہیں۔
پروٹیز اب تک ٹورنامنٹ میں ناقابل شکست رہے ہیں اور ان کے گیند بازوں نے چاروں میچوں میں زبردست کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔
اگرچہ ان کی بلے بازی کی کارکردگی اس ٹیم کی عکاسی نہیں کرتی جس کے پاس کوئنٹن ڈی کاک، ہنریچ کلاسن، ٹرسٹن اسٹبس اور ڈیوڈ ملر جیسے بڑے کھلاڑی ہیں لیکن پھر بھی ڈی کاک، ریز ہینڈرکس اور کپتان ایڈن مارکرم کے ٹاپ آرڈر پر کارکردگی کا دباؤ محسوس ہو سکتا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








