اسلام آباد:وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ کشمیر ہماری خارجہ پالیسی کا اہم ستون ہے،جدید سفارتکاری میڈیا کے بغیر ممکن نہیں،بھارت نے بڑی مکاری سے کشمیریوں کی حق خودارادیت کو روند دیا ہے، بھارت کے منفی بیانیے کو کاؤنٹر کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ موثر بیانیے کی تشہیر کیلئے میڈیا کے ساتھ مضبوط ربط ناگزیر ہے،احتیاط کے ساتھ ساتھ ہمیں جدید خطوط ہر خود کو استوار کرنا ہو گا،سیکورٹی کے لحاظ سے آج ہم بہت بہتر صورت حال میں ہیں،ہمارا چیلنج معیشت کی بہتری ہے،خودمختار خارجہ پالیسی کیلئے ہماری معیشت کا مستحکم ہونا ناگزیر ہے۔
وزارت خارجہ میں جدید سہولیات سے آراستہ، اسٹیٹ آف دی آرٹ، میڈیا سینٹر کے افتتاح کے بعد صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہاکہ ہم نے وزارت خارجہ میں آپ کیلئے اسٹیٹ آف دی آرٹ میڈیا سینٹر قائم کر دیا ہے،میڈیا نمائندگان کو بھی نئے چیلنجز کا سامنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ آج بیانیہ کی حیثیت کلیدی ہے۔ انہوں نے کہاکہ وزارتِ خارجہ سے منسلک صحافیوں کو زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے کیونکہ آپ کو مصدقہ خبر دینا ہوتی ہے۔ انہورں نے کہاکہ وزارتِ خارجہ کے افسران نے آج کی صورتحال کا مقابلہ کرنا ہے اور آئندہ کے منظرنامے کا سوچنا ہے۔
اس لیے ان کی ذمہ داریاں مختلف ہیں،موثر بیانیے کی تشہیر کیلئے میڈیا کے ساتھ مضبوط ربط ناگزیر ہے،یہاں احتیاط کے ساتھ ساتھ ہمیں جدید خطوط پر خود کو استوار کرنا ہو گا۔ انہوں نے کہاکہ آج ایک ٹویٹ کی بنیاد پر، پریس ریلیز اور ٹاک شوز کا انعقاد ہوتا ہے کیونکہ یہ ٹیکنالوجی کی جدت کا زمانہ ہے۔
انہوں نے کہاکہ ان نئی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے ہم نے وزارت خارجہ میں اسٹریٹیجک کمیونیکیشن ڈویژن قائم کی ہے جس کا مقصد بیانیہ تشکیل دینا اور اس کی تشہیر کرنا شامل ہے۔
انہوں نے کہاکہ ہندوستان نے انتہائی مکاری سے کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو دہشت گردی سے جوڑ دیا تاکہ مظلوم کشمیریوں کو دہشت گرد بتایا جائے ہم نے اس جھوٹے بیانیہ کو رد کیا اور حقائق دنیا کے سامنے رکھے۔
انہوں نے کہاکہ ہم نے دنیا کو باور کروایا کہ ہم نہ صرف دہشت گردی کا نشانہ بنے بلکہ ہم نے اس عفریت کو شکست دی اب دنیا بھارت کے جھوٹے پروپیگنڈے کو سننا پسند نہیں کرتی۔ انہوں نے کہاکہ آج پاکستان کو مسائل کی جڑ نہیں بلکہ مسائل کا حل سمجھا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہاکہ عبداللہ عبداللہ پاکستان تشریف لاتے ہیں اور پاکستان کے مصالحانہ کردار کو سراہتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے وزارت خارجہ کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور سفارتی چیلنجز کو بروئے کار رکھتے ہوئے بہت سے اقدامات کئے ہیں۔
میں اس سلسلے میں بھرپور تعاون پر سیکرٹری خارجہ سہیل محمود اور ان کی ٹیم کا شکرگزار ہوں۔ انہوں نے کہاکہ کشمیر، ہماری خارجہ پالیسی کا اہم ستون ہے،بھارت کے یکطرفہ اقدامات نے اس مسئلے کو مزید اجاگر کر دیا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ہم نے یہاں کشمیر سیل قائم کیا اور موثر انداز میں بھارت کے جھوٹے بیانیے کو رد کیا،ہم نے 24/7 بنیادوں پر کرایسز مینجمنٹ سیل قائم کی جس کی بدولت ہمیں کرونا عالمی وبا کے دوران دنیا بھر میں وطن واپسی کے منتظر ڈھائی لاکھ پاکستانیوں کی واپسی میں مدد ملی۔