اسٹیٹ بینک کے احکامات ہوا میں اڑا دئیے؟ کمرشل بینکس کا ایس ایم ایس الرٹ کے نام پر صارفین کو اربوں روپے کا چونا

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

پاکستان کے کمرشل بینکس ایس ایم ایس الرٹ سروس کی مد میں سالانہ فیس کے نام پر صارفین سے اربوں روپے وصول کر رہے ہیں جبکہ اسٹیٹ بینک پاکستان کے قواعد کے مطابق ڈیجیٹل لین دین پر ایس ایم ایس الرٹس مفت فراہم کرنا بینکوں کی ذمہ داری ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک صارف کی جانب سے شیئر کی گئی معلومات کے مطابق ایک معروف اسلامی بینک کے ملک بھر میں تقریباً 45 لاکھ صارفین ہیں جن میں سے کم از کم 31 لاکھ صارفین اے ٹی ایم کارڈ استعمال کرتے ہیں۔

اندازوں کے مطابق اگر ہر صارف سے سالانہ 2 ہزار 250 روپے ایس ایم ایس الرٹ فیس وصول کی جائے تو یہ بینک محض اس ایک سروس کے ذریعے سالانہ 7 ارب روپے سے زائد آمدن حاصل کررہا ہے بغیر کوئی اضافی سہولت فراہم کیے۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے پی ایس ڈی سرکلر نمبر 02 آف 2021 اور PSPOD سرکلر لیٹر نمبر 01 آف 2022 کے تحت بینکوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ ڈیجیٹل ٹرانزیکشنز پر صارفین کو مفت ایس ایم ایس الرٹس فراہم کیے جائیں تاہم صارفین اور ماہرین کا کہنا ہے کہ بعض بینکوں کی جانب سے اس سروس پر سالانہ فیس وصول کرنا ان قواعد کی کھلی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔

مالیاتی ماہرین نے اس عمل کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بغیر کسی نئی یا اضافی سروس کے اربوں روپے کمانا بینکنگ نظام کی شفافیت اور ضابطوں کی پاسداری پر سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔ صارفین اور ماہرین کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان فوری طور پر اس معاملے کی تحقیقات کرے اور صارفین کے حقوق کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جائے۔

یہ معاملہ مالیاتی شعبے میں شدید تشویش کا باعث بن رہا ہے کیونکہ ایسے غیر ضروری چارجز براہِ راست عام صارف پر اضافی مالی بوجھ ڈال رہے ہیں۔

Related Posts