پاکستان اسٹیل ملز کی بندش کے باعث ملک کو 18ارب ڈالرز کا نقصان

تازہ ترین

تازہ ترین

اسٹیل مل کی5ارب سے زائد مالیت کی اراضی پر لینڈ مافیا کا قبضہ
اسٹیل مل کی5ارب سے زائد مالیت کی اراضی پر لینڈ مافیا کا قبضہ

کراچی: پاکستان اسٹیل ملز کی بندش کے باعث ملک کو 18 ارب ڈالرز کے نقصان کا سامنا ہے۔ 16سال میں اسٹیل ملز کے بھاری بھرکم خسارے میں مزید اضافہ ہوا۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان کو اسٹیل ملز کی بندش سے 18ارب ڈالرز کے غیر ملکی زرِ مبادلہ کا نقصان ہوا۔ نجی ٹی وی کا اپنی رپورٹ میں کہنا ہے کہ حکومت 2015ء سے اب تک اسٹیل ملز پر 65ارب اخراجات کرچکی ہے جو ایندھن، تنخواہوں اور متفرق اثاثہ جات کی دیکھ بھال پر کیے گئے۔

یہ بھی پڑھیں:

آئی ایم ایف نے بجٹ تجاویز پر تحفظات کا اظہار کردیا

گزشتہ مالی سال کے دوران سٹیل ملز کا خسارہ 228ارب جبکہ قرض 386ارب روپے ریکارڈ کیا گیا تھا جبکہ موجودہ حکومت میں اسٹیل ملز کی نجکاری رک گئی۔ ایف آئی اے اور نیب نے 284ارب روپے کی بدعنوانی پر تحقیقات جاری رکھی ہوئی ہیں۔ اسٹیل ملز کے مجموعی اثاثوں کی مالیت 839ارب ہے۔

رپورٹ کے مطابق اسٹیل ملز کے اثاثہ جات میں ہزاروں گھر، 19000ایکڑ اراضی اور دیگر اشیاء شامل ہیں۔ اراضی کی مالیت 751ارب کے لگ بھگ ہے۔ 5 ہزار 282ملازمین نکال دئیے گئے۔ ماہانہ تنخواہیں 25 کروڑ روپے تک کم ہوگئیں۔ پھر بھی اسٹیل ملز کے 3 ہزار 207 مختلف اقسام کے ملازمین ہیں۔

قبل ازیں اسٹیل ملز کے خسارے کے باعث ملکی زرِ مبادلہ کی کثی رقم اخراجات کی نذر ہوتی رہی ہے۔ 2007ء میں اسٹیل ملز پاکستان کو 11ارب روپے منافع دے رہی تھی۔ تاحال اسٹیل ملز کی بحالی کے کوئی آثار نظر نہیں آتے، نہ ہی اسٹیل ملز کی نجکاری کا عمل مکمل ہونے کی کوئی صورت سامنے آئی ہے۔

Related Posts