امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کا کہنا ہے کہ امریکی بحریہ کو ہدایت جاری کی ہیں کہ آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے والی ایرانی چھوٹی کشتیوں کو فوری طور پر نشانہ بنا کر تباہ کر دیا جائے اور اس حوالے سے کسی قسم کی ہچکچاہٹ نہیں ہونی چاہیے اور امریکی فورسز پہلے ہی اس اہم آبی گزرگاہ کو صاف کرنے کے لیے سرگرم ہیں۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب امریکی فوج نے ایرانی تیل کی اسمگلنگ سے منسلک ایک اور آئل ٹینکر کو تحویل میں لے لیا جس کے بعد آبنائۓ ہرمز میں امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ یہ آبی راستہ عالمی توانائی سپلائی کے لیے انتہائی اہم ہے جہاں سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور گیس کی ترسیل ہوتی ہے۔
اپنے سوشل میڈیا پیغام میں ٹرمپ نے کہا کہ امریکی نیوی کو واضح احکامات دیے گئے ہیں کہ اگر کوئی بھی کشتی چاہے وہ کتنی ہی چھوٹی کیوں نہ ہو پانی میں بارودی مواد نصب کرتی نظر آئے تو اسے فوری طور پر تباہ کر دیا جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ مائن سویپرز اس وقت آبنائے کو صاف کرنے میں مصروف ہیں اور اس عمل کو مزید تیز کیا جا رہا ہے۔
یہ صورتحال ایک دن بعد پیدا ہوئی جب ایران کی نیم فوجی فورس پاسداران انقلاب نے تین کارگو جہازوں کو نشانہ بنایا اور ان میں سے دو پر قبضہ کر لیا۔ اس واقعے نے پہلے سے جاری کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔
ادھر امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے ایک ویڈیو بھی جاری کی جس میں امریکی اہلکاروں کو گنی کے پرچم بردار آئل ٹینکر میجسٹک ایکس پر دیکھا جا سکتا ہے جسے بحرِ ہند میں تحویل میں لیا گیا۔ پینٹاگون کے مطابق غیر قانونی نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی اور ایسے جہازوں کو روکا جائے گا جو ایران کی مدد کر رہے ہیں۔
شپ ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق یہ جہاز سری لنکا اور انڈونیشیا کے درمیان واقع تھا اور چین کی بندرگاہ ژوشان کی جانب جا رہا تھا۔ اس جہاز کا پرانا نام فونیکس تھا اور اسے 2024 میں امریکی محکمہ خزانہ نے ایرانی تیل کی اسمگلنگ کے الزام میں پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا تھا۔
اس کارروائی پر ایران کی جانب سے فوری ردعمل سامنے نہیں آیا تاہم کشیدگی میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ اس سے قبل ٹرمپ نے جنگ بندی میں توسیع کی تھی لیکن ایرانی بندرگاہوں پر امریکی پابندیاں برقرار رکھی گئی ہیں جبکہ پاکستان میں ممکنہ مذاکرات کے دوبارہ آغاز کے حوالے سے بھی غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان اس تنازع نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والی تقریباً تمام برآمدات کو متاثر کیا ہے جس کے باعث عالمی منڈی میں بے یقینی بڑھ گئی ہے۔ اسی دوران جلاوطن ایرانی ولی عہد رضا پہلوی پر برلن میں ایک تقریب کے بعد سرخ مائع پھینکنے کا واقعہ بھی پیش آیا جس کے ملزم کو فوری طور پر گرفتار کر لیا گیا۔
رضا پہلوی نے اس موقع پر امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ مفروضہ غلط ہے کہ ایرانی حکومت کا رویہ اچانک تبدیل ہو جائے گا۔ انہوں نے خود کو مستقبل میں ایران کی سیاست کا ممکنہ کردار بھی قرار دیا۔
واضح رہے کہ 28 فروری سے ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران خلیج فارس، آبنائے ہرمز اور خلیج عمان میں 30 سے زائد جہازوں پر حملے ہو چکے ہیں۔ بڑھتے ہوئے خطرات، انشورنس لاگت میں اضافے اور سکیورٹی خدشات کے باعث جہاز رانی شدید متاثر ہوئی ہے۔
اس صورتحال نے نہ صرف عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں کو بڑھا دیا ہے بلکہ خوراک سمیت دیگر اشیاء کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ عالمی ماہرین کے مطابق اگر یہ کشیدگی برقرار رہی تو اس کے اثرات معیشت، کاروبار اور صارفین پر طویل عرصے تک مرتب ہو سکتے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








