کراچی: انسٹی ٹیوٹ آف بزنس مینجمنٹ (آئی او بی ایم) کی انتظامیہ نے ہراسانی کے ایک معاملے پر تنقید اور طلبہ کے احتجاج کے بعد اپنا فیصلہ واپس لے لیا ہے۔
یہ اقدام اس وقت سامنے آیا جب درجنوں طلبہ نے مبینہ طور پر ہراسانی کی شکایت کرنے والی طالبہ کے ساتھ ناروا سلوک اور اس کی بے دخلی کے خلاف احتجاج کا اعلان کیا۔
واقعہ ستمبر 2025 کے آخر میں اس وقت پیش آیا جب ایک طالبہ نے ٹرانسپورٹ ڈیپارٹمنٹ کے ایک اہلکار پر ہراسانی اور بدتمیزی کا الزام لگایا تاہم شکایت درج کرانے کے بجائے انتظامیہ نے متاثرہ طالبہ کوبدتمیزی کے الزام میں ادارے سے نکال دیا۔
ذرائع کے مطابق ہیومن ریسورس کے شعبے نے نہ صرف طالبہ کی شکایت مسترد کر دی بلکہ اسے زبانی معافی مانگنے کے لیے دباؤ بھی ڈالا تاکہ معاملہ دبایا جا سکے۔
طلبہ نے اس رویے کے خلاف شدید ردعمل ظاہر کیا اور کیمپس میں احتجاج کا اعلان کیا، جس کے نتیجے میں ادارے نے 26 اکتوبر کو تمام کلاسز آن لائن منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
MORE POWER TO STUDENTS!! BIG WIN FOR IOBM STUDENTS BUT REFORMS STILL NEEDED.
The recent incident of alleged harassment at IOBM, followed by the victim’s humiliation and expulsion for reporting it, exposes the absence of proper mechanisms to address harassment complaints. What… https://t.co/z9pPIYYIGx pic.twitter.com/dWJVfDVNbt
— M. Jibran Nasir 🇵🇸 (@MJibranNasir) October 27, 2025
طلبہ تنظیموں اور سماجی کارکنوں نے احتجاج جاری رکھا اور ادارے کی پالیسیوں کو طالب علموں کی حفاظت کے بجائے اپنی شہرت بچانے کی کوشش قرار دیا۔
سماجی رہنما اور وکیل جبران ناصر سمیت متعدد کارکنوں نے آئی او بی ایم انتظامیہ کے رویے کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ایسے واقعات اداروں میں خواتین کے لیے عدم تحفظ کے احساس کو بڑھاتے ہیں۔
مسلسل احتجاج، بائیکاٹ اور سوشل میڈیا پر عوامی دباؤ کے نتیجے میں آخرکار انتظامیہ کو پسپائی اختیار کرنی پڑی ور طالبہ کی بے دخلی کا حکم منسوخ کر دیا گیا۔ اس اقدام کو طلبہ کی اجتماعی جدوجہد اور انصاف کے حصول کی ایک اہم کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








