اسلام آباد: نوجوان طالب علم اسامہ ستی کے قتل کے خلاف نیشنل پریس کلب کے باہر طلباء اور سول سوسائٹی نے احتجاجی مظاہرہ کیا ،اسامہ ستی کے لواحقین بھی مظاہرے میں شریک تھے۔
مقتول کے عزیز و اقارب بھی پلے کارڈ اٹھائے ہوئے مظاہرے میں شریک تھے،مظاہرین کا کہنا تھا کہ ہمیں انصاف دو ریاست مدینہ کے وزیراعظم سے انصاف چاہیے، اسامہ ستی کی کزن بہنوں کے ہاتھوں میں پلے کارڈ پر نعرے درج تھے۔
طلباء کی طرف سے پولیس کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی جبکہ طلباء کا کہنا تھا کہ اسامہ کو انصاف دلوانے کے لیے نکلے ہیں ،پولیس کی وردی میں پولیس گردی نامنظور ہے ،اتنی اسامہ کی عمر نہیں جتنی اسے گولیاں ماردی گئیں ۔
مظاہرین نے کہا کہ بغیر کسی الزام کے نوجوان کا قتل کیا گیا ،پولیس کا کام تحفظ فراہم کرنا ہے نہ کہ معصوم شہریوں پر گولیاں برسائیں، دارالحکومت میں ایسی پولیس گردی نامنظور، پولیس ٹریننگ کا ازسرنو جائزہ لینے کی ضرورت ہے ۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ ہمیں خدشہ ہے کہ پولیس پیٹی بھائیوں کو بچانے کی کوشش کرے گی، اسامہ ستی کا انصاف ہوتا نظر آنا چاہیے، پولیس گردی کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں جب تک اسامہ ستی کو انصاف نہیں ملے گا طلباء تنظیمیں احتجاج کرتی رہیں گی۔
مظاہرین نے کہا کہ اسلام آباد جیسے شہر میں روز بروز بڑھتی قتل ڈکیتی کی وارداتیں پولیس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے، اسامہ ستی پر ایسے گولیاں برسائی گئیں جیسے کوئی دہشت گرد ہو، پولیس محافظ کم اور دہشت کی علامت زیادہ بن چکی ہے ، اسامہ کے قاتلوں کو سرعام کیف رکردار تک پہنچایا جائے ۔
سول سوسائٹی اور طلباء تنظیموں کی طرف سے حکومت کو دو روز کی مہلت دے دی، ہمارے مطالبات تسلیم کیے جائیں ورنہ دو روز بعد پارلیمنٹ کا رخ کریں گے قتل کی آزادانہ تحقیقات کروائی جائیں۔