حاضری کم کیوں؟ طالبِ علم نے امتحان سے روکنے پر یونیورسٹی کی عمارت سے چھلانگ لگا دی

تازہ ترین

تازہ ترین

عمارت سے چھلانگ
(فوٹو: آن لائن)

حاضری کم ہونے پر امتحان میں بیٹھنے سے روکنے پر لاہور یونیورسٹی کے جواں سال طالبِ علم نے جامعہ کی بلند و بالا عمارت سے چھلانگ لگا دی۔

تفصیلات کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ یونیورسٹی آف لاہور کے مرکزی کیمپس میں 19 دسمبر کی صبح تقریباً 10 بجے پیش آیا۔ فارمیسی کے طالب علم محمد اویس کو کلاس حاضری کم ہونے پر  امتحان دینے سے روک دیا گیا۔ محمد اویس نے موقع پر موجود یونیورسٹی انتظامیہ سے کہا کہ اسے ایک موقع دیا جائے، تاہم یہ موقع نہ دینے پر طالبِ علم جذباتی ہوگیا۔

محمد اویس کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ محمد اویس نے اساتذہ کو بتایا کہ اگر امتحان میں نہ بیٹھنے دیا گیا تو اس کا سمسٹر ضائع ہو جائے گا، لیکن اساتذہ کے بات نہ سننے پر یہ واقعہ پیش آیا۔ اس صورتحال سے دلبرداشتہ ہو کر محمد اویس نے یونیورسٹی عمارت کی تیسری منزل سے چھلانگ لگا دی۔

واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ محمد اویس سلطان پہلے نیچے دیکھتا ہے اور پھر آنکھیں بند کر کے چھلانگ لگا دیتا ہے۔بلند و بالا عمارت سے چھلانگ لگانے کے بعد فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل ہونے پر بھی اویس کی جان نہیں بچائی جاسکی۔

محمد اویس سلطان کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہوگیا۔ واقعے پر اہل خانہ نے شدید احتجاج کیا۔ اویس کے بھائی صہیب سلطان نے یونیورسٹی انتظامیہ اور اساتذہ پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ اویس کو اساتذہ ذہنی دباؤ میں رکھتے تھے۔

صہیب سلطان  کے مطابق ایک مضمون میں حاضری کم ہونے پر اویس نے اساتذہ سے درخواست کی کہ اسے ایک موقع دیا جائے اور آئندہ ایسی غلطی نہیں ہو گی، مگر اس کی بات نہیں سنی گئی، جس پر اسے سمسٹر ضائع ہونے کا یقین ہوگیا اور اس نے یہ انتہائی اقدام اٹھا لیا۔

دوسری جانب محمد اویس کے والد علی رزاق کے کہنے پر پولیس نے مقدمہ درج نہیں کیا۔ تھانہ نواب ٹاؤن پولیس نے قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بعد لاش اہل خانہ کے حوالے کر دی جبکہ یونیورسٹی آف لاہور کے طلبہ اس واقعے پر سراپا احتجاج ہیں جنہوں نے اویس کے حق میں نعرے بازی کی۔

تاہم یونیورسٹی انتظامیہ کا ماننا ہے کہ اویس سلطان کا مسئلہ فیس سے متعلق نہیں تھا، یونیورسٹی قوانین کے مطابق حاضری کم ہونے پر طلبہ کو امتحان میں نہیں بیٹھنے دیا جاتا۔ اور یہی وجہ تھی کہ اویس سلطان کو بھی کلاس میں بیٹھنے سے روکا گیا۔

Related Posts