بھارت میں نریندر مودی حکومت کی اسرائیل سے متأثرہ پالیسیوں کے خلاف پرتشدد مظاہرے جاری ہیں، ریاست آسام کے قبائلی علاقے ویسٹ کاربی انگ لانگ میں پر تشدد مظاہروں کے نتیجے میں 2 افراد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق زخمی ہونےو الوں میں 38سے زائد پولیس اہلکار شامل ہیں۔ پرتشدد احتجاج 22دسمبر کو شروع ہوا تھا جب گیر مقامی آبادکارون کو ویلیج گریسنگ ریزرو اور پروفیشنل گریسنگ ریزرو کی حفاظتی زمینوں سے نکالنے کا مطالبہ زور پکڑ گیا۔ بھارتی آئین کے تحت یہ زمینیں سکستھ شیڈول میں شامل ہیں جنہیں قبائلیوں کیلئے محفوظ قرار دیا گیا تھا۔
تاہم بہار، نیپال اور بنگال سے آنے والے غیر قبائلی افراد کے زمینوں پر غیر قانونی قبضے نے صورتحال خراب کردی۔ مقامی کاربی قبائل نے شدید نقصان پہنچنے پر 6دسمبر کو بھوک ہڑتال کی اور کھیرونی میں جاری بھوک ہڑتال کو 22 دسمبر کو ہسپتال منتقل کرنے کی افواہوں سے صورتحال مزید خراب ہوئی۔
مشتعل مظاہرین نے کاربی انگ لانگ آٹونومس کونسل کے عہدیدار کا آبائی گھر جلا دیا اور متعدد دکانیں بھی نذرِ آتش کرڈالیں۔ 23دسمبر کو مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ، تیر اور گھریلو بم برسادئیے۔ جوابی فائرنگ کے نتیجے میں ایک قبائلی شخص جاں بحق جبکہ ایک جلتی دکان میں پھنس کر آتشزدگی کا شکار ہوکر ہلاک ہوگیا۔
دوسری جانب آسام حکومت نے متأثرہ علاقوں میں انٹرنیٹ سروس معطل کرکے کرفیو لگا دیا۔ وزیر اعلیٰ سمیت دیگر سیاسی شخصیات نے ان واقعات پر تشویش اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے 26دسمبر کو سہ فریقی مذاکرات کا اعلان کردیا ہے، جس کے نتیجے میں صورتحال معمول پر آنے کی توقع کی جارہی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








