لاہور کی نجی یونیورسٹی کی بلند و بالا عمارت سے چھلانگ لگانے والی طالبہ کی حالت سنبھل گئی، جسے وینٹی لیٹر سے ہٹا دیا گیا ہے، طالبہ نے اہلِ خانہ سے بات چیت بھی کی۔
تفصیلات کے مطابق نجی یونیورسٹی میں خودکشی کی کوشش کرنے والی طالبہ کی طبی حالت پہلے سے بہتر ہے۔ جنرل ہسپتال میں زیر علاج طالبہ خود سانس لینے کے قابل ہوگئی۔ میڈیکل بورڈ کے ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ مریضہ کی حالت مجموعی طور پر تسلی بخش ہے۔
ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ طالبہ کی حالت بتدریج مستحکم ہورہی ہے۔ طالبہ کی ریڑھ کی ہڈی کی سرجری کے متعلق دوبارہ جائزہ لیا جائے گا جبکہ ماہرین نفسیات بھی طالبہ کا انٹرویو کریں گے۔
جنرل ہسپتال کے آئی سی یو میں زیر علاج یونیورسٹی آف لاہور کی 21 سالہ طالبہ فاطمہ کی حالت میں نمایاں بہتری، مریضہ کو وینٹی لیٹر سے ہٹا دیا گیا، طالبہ فاطمہ اب خود سانس لے رہی ہے، آکسیجن سپورٹ جاری ہے جبکہ ہیمو ڈائنامکس بھی مستحکم ہیں۔
ہسپتال انتظامیہ pic.twitter.com/TNXpLsx76q— Muhammad Umair (@MohUmair87) January 7, 2026
دوسری جانب طالبہ کے کال ریکارڈ کی بنیاد پر پولیس نے ایک نوجوان کو شامل تفتیش کرتے ہوئے موبائل کالز کی مزید تفصیلات بھی حاصل کرلیں۔ بلال نامی نوجوان کو شامل تفتیش کرلیا گیا، جس کا تفصیلی بیان ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے گا۔
تفتیش کاروں کے مطابق لاہور کے جنرل ہسپتال میں زیر علاج اقدامِ خودکشی کرنے والی طالبہ کی حالت بہتر ہونے پر تفصیلی بیان ریکارڈ کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ گزشتہ پیر کو لاہور کی نجی یونیورسٹی کی طالبہ نے عمارت کی دوسری منزل سے چھلانگ لگاکر خودکشی کی کوشش کی تھی جسے تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا۔
اس حوالے سے ہسپتال انتظامیہ کا ماننا ہے کہ طالبہ کو دماغ پر چوٹ آئی جس کی کمر کی کچھ ہڈیوں اور گھٹنے میں فریکچر ہے۔ طالبہ کی حالت گزشتہ کئی روز سے مسلسل تشویشناک رہی، تاہم اب حالت بہتر ہونے پر توقع کی جارہی ہے کہ خودکشی کی وجوہات پر طالبہ کا بیان جلد سامنے آئے گا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








