اسلام آباد: قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں پیش کی گئی تفصیلات سے انکشاف ہوا ہے کہ گزشتہ ایک سال کے دوران ملک بھر کی 67 شوگر ملز نے 112 ارب روپے مالیت کی چینی بیرونِ ملک برآمد کی جبکہ ملک میں چینی کی شدید قلت اور قیمتوں میں بے لگام اضافہ دیکھنے میں آیا۔ یہ تمام تفصیلات پی اے سی کے اجلاس میں چیئرمین جنید اکبر کی زیرِ صدارت فراہم کی گئیں۔
کمیٹی کو بتایا گیا کہ ان شوگر ملز نے جولائی 2024 سے جون 2025 کے درمیان مجموعی طور پر ساڑھے سات لاکھ ٹن سے زائد چینی 21 ممالک کو برآمد کی، جن میں افغانستان کو سب سے زیادہ چار لاکھ 93 ہزار 502 میٹرک ٹن چینی بھیجی گئی۔ برآمدات سے مجموعی طور پر 111 ارب روپے زرمبادلہ کمایا گیا۔
کمیٹی اجلاس میں اپوزیشن کے مطالبے پر شوگر ملز مالکان اور ڈائریکٹرز کے نام بھی پیش کیے گئے۔
ان میں سب سے نمایاں نام جہانگیر ترین کی دو شوگر ملز کا تھا جنہوں نے 15 ارب روپے سے زائد مالیت کی چینی برآمد کی۔ وزیراعظم کے بیٹوں کی ملکیت دو شوگر ملز نے 3 ارب 61 کروڑ روپے کی برآمد کی۔
رمضان شوگر ملز، حمزہ شوگر ملز، جے ڈی ڈبلیو، تاندلیانوالہ، جے کے شوگر ملز، الموئز، فاطمہ، مدینہ، انڈس اور ڈہرکی شوگر ملز سمیت دیگر ملز نے بھی اربوں روپے کی برآمدات کیں۔
پیش کی گئی تفصیلات کے مطابق:
جے ڈی ڈبلیو شوگر ملز: 73090 میٹرک ٹن، 11 ارب 10 کروڑ روپے
تاندلیانوالہ شوگر ملز: 41412 میٹرک ٹن، 5 ارب 98 کروڑ روپے
حمزہ شوگر ملز: 32486 میٹرک ٹن، 5 ارب 3 کروڑ روپے
رمضان شوگر ملز: 16116 میٹرک ٹن، 2 ارب 41 کروڑ روپے
الموئز، جے کے، مدینہ، فاطمہ اور دیگر ملز بھی نمایاں رہیں
کمیٹی کے اجلاس میں آڈیٹر جنرل پاکستان نے انکشاف کیا کہ چینی کی قیمتوں میں اضافے سے شوگر ملز نے 300 ارب روپے سے زائد ناجائز منافع حاصل کیا۔ ریاض فتیانہ نے کہا کہ چینی کی مد میں قوم کو 287 ارب روپے کا دھوکہ دیا گیا۔
کمیٹی اراکین نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں چینی کی فی کلو قیمت 200 سے 215 روپے تک جا پہنچی ہے جبکہ حکومت کی مقرر کردہ قیمت 173 روپے ہے۔
چیئرمین کمیٹی نے سیکریٹری فوڈ سیکیورٹی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ اعداد و شمار میں رد و بدل اور حقائق چھپانا ناقابلِ قبول ہے۔

اجلاس میں اس بات پر بھی روشنی ڈالی گئی کہ گزشتہ سال ملک میں 76 لاکھ 60 ہزار میٹرک ٹن چینی پیدا ہوئی، جس میں سے 13 لاکھ میٹرک ٹن اضافی مقدار تھی۔ حکومت نے اس میں سے 5 لاکھ ٹن آئندہ سال کے لیے محفوظ کی جبکہ باقی برآمد کی اجازت دی گئی۔
اراکین نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ جب ملک میں قیمتیں بڑھ رہی تھیں تو چینی برآمد کرنے کی اجازت کیوں دی گئی؟ ایس آر اوز کے ذریعے ٹیکس میں چھوٹ کیوں دی گئی؟ کمیٹی نے مطالبہ کیا کہ چینی بحران کی مکمل آڈٹ رپورٹ تیار کی جائے اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
اس دوران اجلاس میں سیاسی گرما گرمی بھی دیکھنے میں آئی۔ پی ٹی آئی کے عامر ڈوگر نے الزام لگایا کہ حکومت میں شامل افراد خود شوگر ملز کے مالک ہیں جن میں جہانگیر ترین، آصف علی زرداری اور شریف خاندان شامل ہیں۔ اس بیان پر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے ارکان نے شدید احتجاج کیا۔
علاوہ ازیں، کمیٹی نے وزارت اطلاعات و نشریات کے آڈٹ اعتراضات کا بھی جائزہ لیا۔ چیئرمین پیمرا کی غیر حاضری پر پیمرا کے آڈٹ اعتراضات مؤخر کر دیے گئے۔
دوسری جانب، ملک بھر میں چینی کی قیمتوں میں اضافے اور قلت کے باعث صارفین شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ لاہور، اسلام آباد اور کراچی سمیت کئی شہروں میں چینی نایاب ہے یا 200 روپے فی کلو سے زائد نرخ پر فروخت ہو رہی ہے۔
پنجاب حکومت نے ذخیرہ اندوزی اور منافع خوری کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔
گزشتہ 24 گھنٹوں میں صوبہ بھر میں 1342 دکانداروں کے خلاف کارروائی کی گئی، 134 افراد کو گرفتار اور 1208 کو جرمانے کیے گئے۔ تمام پرائس کنٹرول افسران کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئی ہیں تاکہ مصنوعی بحران کو روکا جا سکے۔
پی اے سی نے حکومت کو تجویز دی ہے کہ وہ چینی کے تمام برآمدی و درآمدی معاہدوں کا ازسر نو جائزہ لے اور چینی کے موجودہ بحران پر فوری آڈٹ کرایا جائے تاکہ ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








