ڈی آئی خان میں ایک شادی کی تقریب کے دوران ہونے والے خودکش حملے کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آ گئی ہے۔ تحقیقات کے مطابق حملہ آور 21 سالہ عبدالرحمن تھا، جو افغان نژاد دہشت گرد بتایا گیا ہے۔
سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ خودکش بمبار سفید چادر اوڑھے پنڈال میں داخل ہوتا ہے۔ ابتدائی طور پر وہ قبائلی رقص کے دوران پنڈال میں موجود لوگوں کے درمیان رہا، لیکن اچانک عقب میں واقع ایک کمرے کی جانب بڑھا جہاں تقریب کے کچھ اہم مہمان موجود تھے۔
ڈی آئی خان میں شادی کی ایک تقریب کے دوران ہونے والے خودکش حملے کی سی سی ٹی وی فوٹیج منظر عام پر آ گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق خودکش بمبار کی شناخت 21 سالہ عبدالرحمن کے نام سے ہوئی ہے، جو افغان شہری تھا۔#news #radiopakistan https://t.co/JPZED9Z8zO pic.twitter.com/Y1J8FTQ6XF
— ریڈیوپاکستان (@PBCofficialNews) January 25, 2026
کمرے میں داخل ہوتے ہی بمبار نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا جس کے نتیجے میں کمرے کی چھت منہدم ہو گئی۔ دھماکے میں بمبار سمیت تقریباً 5 افراد جاں بحق ہوئے۔ یہ حملہ امن کمیٹی کے سربراہ نور عالم محسود کے بھتیجے کی شادی کی تقریب میں کیا گیا تھا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں سیکیورٹی فورسز کی مؤثر انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیوں کی وجہ سے دہشت گرد اب براہِ راست فورسز کا سامنا کرنے کی صلاحیت کھو چکے ہیں۔
ماہرین نے مزید کہا کہ افغان طالبان رجیم کی حمایت میں دہشت گرد نیٹ ورکس فعال ہیں اور افغانستان سے منظم سرپرستی میں فتنہ الخوارج جیسے گروہ خودکش حملے کر کے خطے میں خوف و ہراس پھیلا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان دہشت گردوں کا جلد اور فیصلہ کن خاتمہ ناگزیر ہو چکا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








