امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے (ناسا) نے ایک سپر نووا کا مشاہدہ کیا ہے جس کے تحت ایک ستارے نے پھٹ کر تاریخ رقم کردی جس کے نتیجے میں ہمارے سورج سے 5 ارب گنا روشنی خارج ہوئی۔
تفصیلات کے مطابق ناسا کی ہبل نامی دوربین سے نت نئی خلائی دریافتیں منظرِ عام پر آ رہی ہیں۔ زمین سے 7 کروڑ نوری سال کی دوری پر واقع این جی سی 2525 نامی کہکشاں میں ایک ستارے کی زندگی ختم ہو گئی۔
عموماً جب کوئی ستارہ پھٹ کر ختم ہوتا ہے تو کسی بلیک ہول یا دیگر خلائی جسم میں تبدیل ہونے سے قبل ایک دھماکہ ہوتا ہےجسے کائنات کی روشن ترین چیز کہا جاتا ہے۔ این جی سی 2525نامی کہکشاں میں پھٹنے والا سیارہ بھی ایک روشن ترین جسم ثابت ہوا۔
پھٹنے والے ستاروں سے روشنی اور توانائی کا اخراج ہوتا ہے۔ این جی سی 2525 کے ستارے سے بھی بے انتہا روشنی خارج ہوئی جس کا تخمینہ ہمارے سورج سے پیدا ہونے والی روشنی کا 5 ارب گنا لگایا گیا ہے۔
کائنات کا ہر ستارہ ایک سورج ہوتا ہے جس کے پاس اپنی زندگی برقرار رکھنے کیلئے وافر مقدار میں ایندھن ہوتا ہے جو اربوں اور بعض اوقات کھربوں سال چل سکتا ہے۔ ہمارے سورج کی زندگی کا اندازہ بھی اربوں برسوں پر محیط ہے۔
لیکن جب یہ ایندھن ختم ہوجائے تو یہ ستارے پھٹ کر سپر نووا تخلیق کرتے ہیں جس سے ستارے کا مواد دھول کی صورت پوری کہکشاں میں بکھر سکتا ہے۔ چند روز تک این جی سی 2525 کا سپرنووا بھی روشن رہے گا لیکن کچھ مہینوں بعد یہ نظروں سے غائب بھی ہوسکتا ہے۔
یاد رہے کہ اِس سے قبل سورج کے گرد 6000 سال میں ایک چکر مکمل کرنے والے ایٹلس نامی دُمدار ستارے نے پگھلنا شروع کردیا۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر امریکی خلائی تحقیقاتی ایجنسی ناسا نے رواں برس اپریل کے دوران خلائی دوربین ہبل کی جاری کردہ تصاویر جاری کردیں جن کے مطابق دُمدار سیارہ پگھل رہا تھا۔
مزید پڑھیں: سورج کے گرد 6000 سال میں 1 چکر، ایٹلس نے پگھلنا شروع کردیا
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








