اسلام آباد: سپریم کورٹ نے دو بھائیوں عبدالعزیز خان اور منگلا خان کو 20سال بعد بری کرنے کا فیصلہ سنایا ہے۔
عدالت نے فیصلہ دیا کہ استغاثہ نے 2005میں کراچی کے پی آئی ڈی سی ہاؤس کے باہر ہونے والے بم دھماکے میں ان کے ملوث ہونے کا قابل اعتبار ثبوت فراہم نہیں کیا۔
سپریم کورٹ نے پہلے ٹرائل کورٹ اور ہائی کورٹ کی جانب سے سنائی گئی سزاؤں کو کالعدم قرار دے دیا اور ایک اور ملزم عبدالحمید بگٹی کی بریت کے خلاف دائر درخواست کو بھی مسترد کر دیا۔
عدالت کے مطابق 15نومبر 2005کوپی آئی ڈ سی ہاؤس کے باہر ایک گاڑی سے بم دھماکہ ہوا تھا جس میں پانچ افراد ہلاک، 20سے زائد زخمی اور قریبی بینک، کے ایف سی کا آؤٹ لیٹ اور اطراف کی عمارتیں شدید متاثر ہوئیں۔
عدالت نے کہا کہ استغاثہ کے اہم گواہ ٹریفک کانسٹیبل محمد اشرف اور ٹیکسی ڈرائیور ظہیر شاہ دھماکے کے وقت موجودگی ثابت کرنے میں ناکام رہے اور ان کے بیانات میں بڑے تضادات پائے گئے۔
شناختی پریڈ کو بھی ناقابل اعتماد قرار دیا گیا کیونکہ ملزمان پہلے ہی پولیس تحویل میں تھے ۔
سپریم کورٹ نے مبینہ عدالتی اعترافات کو بھی مسترد کر دیا اور کہا کہ ان پر جبر، طویل حراست تاخیر اور جرم کے بارے میں غیر واضح تفصیلات کے شواہد موجود تھے۔
عدالت نے مزید کہا کہ اگرچہ کیمروں کی مکمل فوٹیج موجود تھی لیکن تفتیش کاروں نے صرف دھماکے کے بعد کا محدود حصہ پیش کیا۔
عدالت نے کہا کہ بہترین دستیاب شواہد پیش نہ کرنے سے یہ شکوک پیدا ہوتے ہیں کہ اہم مواد جان بوجھ کر چھپایا گیا۔
سپریم کورٹ نے سخت تفتیشی غفلت کی بھی مذمت کی اور کہا کہ دہشت گردی کے سنگین کیس کے باوجود پولیس نے بنیادی تفتیشی اصولوں پر عمل نہیں کیا۔
عدالت نے افسوس کا اظہار کیا کہ گرفتار ہونے کے وقت ملزمان کی عمر 27اور 37سال تھی اور وہ کمزور اور ناقص ثبوت کی بنیاد پر 20سال قید میں رہے۔
اس بنیاد پر سپریم کورٹ نے ان کی سزاؤں کو کالعدم قرار دیتے ہوئے عبدالعزیز خان اور منگلا خان کی بریت کا حکم دیا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








