اسلام آباد: سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کے منحرف رہنما فیصل واوڈا کو پانچ سال کیلئے نااہل قرار دے دیا ہے، عدالت کی جانب سے فیصل واڈا کی تاحیات نااہلی ختم کردی گئی ہے۔
چیف جسٹس عمرعطابندیال کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی، عدالتی حکم پر پیش ہونے والے فیصل وواڈا نےعدالت سے غیر مشروط معافی مانگ لی جس پر عدالت نے معافی قبول کرتے ہوئے تاحیات نااہلی کا فیصلہ 5 سال کی نااہلی میں تبدیل کردیا۔
سپریم کورٹ نے تاحیات نااہلی کیس کی کل ہونے والی سماعت میں فیصل واوڈا کوآج ذاتی حیثیت میں طلب کرتے ہوئے انہیں 2 آپشنز دیے تھے۔ فیصل واوڈا کو امریکی شہریت ترک کرنے کا سرٹیفکیٹ بھی ساتھ لانے کی ہدایت کی گئی تھی۔
چیف جسٹس عمرعطا بندیال کا کہنا تھا کہ فیصل واوڈا اپنی غلطی تسلیم کریں اور 63(1) سی کے تحت نااہل ہوجائیں، بصورت دیگرعدالت 62(1) ایف کے تحت کیس میں پیش رفت کرے گی۔
حکومت نے آرمی چیف اور چیئرمین جوائنٹ چیفس کی تقرریوں کے نوٹیفکیشن جاری کردیے
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے تھے کہ عدالت کے سامنے فیصل واوڈا کی تاحیات نااہلی کیلئے کافی مواد موجود ہے، اس لئے اپنی غلطی تحریری طور پر تسلیم کرنی ہوگی۔ آرٹیکل 62 ون ایف کے اطلاق کیلئے چند تقاضے ہیں، اس کا اطلاق احتیاط سے ہونا چاہیے۔
یاد ہرے کہ الیکشن کمیشن نے فروری 2022 میں فیصل واوڈا کو 2018 میں ہونے والے عام انتخابات میں حصہ لینے کیلئے کاغذات نامزدگی میں امریکی شہریت چھوڑنے سے متعلق جھوٹا بیان حلفی جمع کروانے پر آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت تاحیات نااہل قراردیا تھا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی فیصل ووڈا کی طرف سے الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف دائر درخواست مسترد کردی تھی۔ عدالت نے ریمارکس دیے تھے کہ جھوٹا بیان حلفی دینے کے نتائج سنگین ہوتے ہیں، اس پرسپریم کورٹ کے لارجر بینچ کے فیصلے موجود ہیں جن میں کئی ارکان پارلیمان کو نااہل قراردیا گیا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








