سپریم کورٹ کاسول ایوی ایشن اتھارٹی کلب بند، کراچی کے پارکس بحال کرنے کا حکم

تازہ ترین

تازہ ترین

Supreme Court orders closure of Civil Aviation Authority Club

کراچی: سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں غیر قانونی تعمیرات اورسندھ حکومت کی جانب سے سول ایوی ایشن کی زمینوں کی الاٹمنٹ کے معاملے پر سپریم کورٹ کاسول ایوی ایشن اتھارٹی کلب بند اور کراچی کے پارکس بحال کرنے کا حکم دیدیا ہے۔

سول ایوی ایشن کی زمینوں کی الاٹمنٹ
سندھ حکومت کی جانب سے سول ایوی ایشن کی زمینوں کی الاٹمنٹ کے معاملے پر عدالت نے سینئر ممبر کو کل پیش ہونے کا حکم دے دیا ہے تاہم ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ سینئر ممبر بیمار ہیں۔ پیش نہیں ہوسکتے۔

ایف آئی اے نے عدالت میں رپورٹ پیش کی کہ مقدمہ درج کرکے چار افراد کو گرفتار کیا ہے ، ایڈیشنل ڈائریکٹر ایف آئی اے نے عدالت کو بتایا کہ الاٹمنٹ کے وقت جعلی دستاویزات جمع کرانے پر ریونیو افسران کو گرفتار کیا ہے، متنازعہ پلاٹوں کا قبضہ سول ایوی ایشن کے پاس ہے ۔

نجی فریق کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہسروے رپورٹس دیکھ لیں ،زمین ہم نے لی ہے جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ ایسی سروے رپورٹس کھوکھے کی بھی بن جاتی ہیں۔بہت دیکھی ہیں سروے رپورٹس ، سندھ حکومت تو غیر قانونی کام کرنے والوں کو سپورٹ کررہی ہے ۔

ڈی جی سول ایوی ایشن نے عدالت کو بتایا کہ جعلی کاغذات پر چار پلاٹس کاٹے گئے ہیں ، ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ ریونیو ریکارڈ میں رد و بدل کرکے پلاٹس کاٹے گئے ہیں ، سپریم کورٹ نے ایف آئی اے کو زمین سے قبضہ ختم کرانے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ قبضہ ختم کراکے زمین سول ایوی ایشن اتھارٹی کے حوالے کی جائے اورکل رپورٹ پیش کی جائے۔

سول ایوی ایشن کلب
سپریم کورٹ آف پاکستان نے سول ایوی ایشن آفیسرز کلب پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔چیف جسٹس نے ڈی جی سول ایوی ایشن سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ سول ایوی ایشن کی زمین پر کلب کیوں بنایا ہے؟ کل آپ ہائوسنگ سوسائٹی بھی بنا لیں گے ؟،جس کام کیلئے زمین دی گئی ہے اسی کام کیلئے استعمال کریں۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ آپ کلب بنا کر پرائیویٹ لوگوں کو ممبر شپ دے رہے ہیں ، آپ غیر قانونی سرگرمیاں کررہے ہیں۔

مزید پڑھیں:

کراچی کی تباہی برسوں کا نوحہ

کراچی میں تجاوزات کیخلاف بڑا آپریشن، سیکڑوں مکانات گرانے کا فیصلہ

عدالت عظمیٰ نے گلی محلوں میں تجاوزات کے خاتمے کا حکم دے دیا

جعلی لیز پر قائم مکانات، کمرشل تعمیرات، تجاوزات پرتمام حکم امتناع ختم

سول ایویشن ایشن اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل نے عدالت سے کہا کہ میس کی اجازت دے دیں ،کلب بند کردیں گے ۔جس پرجسٹس قاضی محمد امین نے جوا ب دیا کہ میس کی بھی ضرورت نہیں یہ دوسرا میس ہے ، میس کے بھی دو مطلب ہیں ۔ بعدازاں سپریم کورٹ نے سول ایوی ایشن اتھارٹی کو کلب بند کرنے کا حکم دیدیا۔

رفاہی پلاٹوں پر قبضہ
کراچی میںرفاہی پلاٹوں پر قبضے کے حوالے سے کیس کی سماعت میں سماجی رہنماء امبر علی بھائی نے عدالت کو بتایا کہ 54 پارکس اورکئی زمینوں پر قبضہ ہے ، کچھ پارکس کچرا کنڈی میں تبدیل ہوگئے ہیں۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ جھیل پارک کا کیا بنا؟ جھیل تو ختم ہوگئی شائد ،دو تین جھیلیں تھیں وہاں ،کیا بنادیا گیا ہے ؟ ،تین جھیلیں تھیں کراچی میں ، جھیل پارک میں دو جھیلیں تھیں ۔

امبر علی بھائی نے جواب دیا کہ وہاں دارالامان سوسائٹی ہے دوسری جگہ فائونڈیشن اسکول ہے، چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کہاں ہیں کے ایم سی والے جن کی ذمہ داری تھی ۔

جسٹس گلزارنے کہا کہ ایڈمنسٹریٹر صاحب کراچی کی چار جھیلیں بند کردیں آپ نے ؟ ،ہم یہاں کھیلا کرتے تھے ، مچھلی پکڑا کرتے تھے ہم ، یہ قدرتی جھیلیں تھیں ختم کردی گئیں ۔

ایڈمنسٹریٹر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے عدالت کو بتایا کہ ایک طرف پبلک پارک دوسری طرف پلان ٹینشن کی گئی ہے ، ایک طرف فٹبال گرائونڈ ہے ۔

عدالت نے استفسار کیا کہ کیا یہ جھیلیں بھر گئی ہیں ؟۔امبر علی بھائی نے بتایا کہ یہ جھیلیں بھر کے زمینیں الاٹ کردی گئی ہیں ، ان جھیلوں کا قدرتی حسن خراب ہوگیا ہے اب صرف کو نو کارپس ہے ۔جھیل پارک سے متصل پارک پر غیر قانونی دکانیں بن گئی ہیں جبکہ ایڈوکیٹ جنرل سندھ نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ ان جھیلوں سے پہلے ہی پانی ختم ہوگیا تھا ۔

چیف جسٹس گلزار احمدنے ریمارکس دیئے کہ اتنا خوبصورت علاقہ تھا کتنے تمیز کے لوگ رہتے تھے ، سارے علاقے کا کیا حال کردیا ہے ۔جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ بورڈ آف ریونیو خود قبضہ گروپ بن گیا ہے۔

کثیر المنزلہ عمارتیں
شہر میں کثیر المنزلہ عمارتوں کے حوالے سے چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ بڑے شہروں میں کثیر المنزلہ عمارتیں ہوتی ہیں مگر مکمل پلاننگ تو ہو ،سوک سینٹر کے پاس مشرق سینٹر کا حال دیکھیں ، ہٹائیں تجاوزات ، سوک سینٹر سے چھیپا کو ہٹائیں وہ گرین بیلٹ پر بیٹھے ہیں۔شارع فیصل پر لائٹ کون جلاتا ہے ؟ عموماً اندھیرا رہتا ہے ۔

ایڈمنسریٹر کراچی مرتضیٰ وہاب نے بتایا کہ کے ایم سی کی حدود میں لائٹس آن رہتی ہیں کنٹونمنٹ علاقوں میں بند رہتی ہیں ۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ میں نے بھی یہی نوٹ کیا ہے ، کنٹونمنٹ والوں کا کیا مسئلہ ہے ؟ ،کنٹونمنٹ والوں پر قانون لاگو نہیں ہوتا کیا ؟ ،کھمبوں پر سیاسی جماعتوں کی جھنڈے لگے ہوتے ہیں ، پرچم لگانا ہے تو پاکستان کا پرچم لگائیں ۔

مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہمیں کہیں عدالتی حکم کہیں کے پی ٹی روک دیتا ہے ، اہم مقامات پر پلانٹیشن شروع کی مگر رکاوٹیں ڈالی گئیں ۔

جسٹس اعجاز الاحسن پارکس کے انتظام کے حوالے سے تو قانون سازی کریں ، یہ سارا انتظام ایک تھا رٹی کے پاس ہونا چاہئے۔ بعد ازاں عدالت نے ایڈ منسٹریٹرکراچی مرتضیٰ وہاب کوشہرکے پارکس بحال کرنے کا حکم دیدیا ہے۔

Related Posts