کراچی:سپریم کورٹ نے کلفٹن میں رفاعی پلاٹوں پر2 نجی اسپتالوں کی تعمیر سے متعلق تحریری حکم نامہ جاری کرتے ہوئے شہر بھر کے رفاعی پلاٹوں کی تفصیلات طلب کرلیں۔
عدالت عظمی نے ڈی جی کے ڈی اے، کمشنر کراچی، ایڈمنسٹریٹر کراچی، تمام کنٹونمنٹس کو نوٹس جاری کردیئے۔عدالت نے رفاعی پلاٹوں کی فہرست، تعمیرات سے متعلق تفصیلات پیش کرنے کا حکم دیدیا۔
سپریم کورٹ نے ایس ٹی پلاٹس کے مقاصد اور تعمیرات سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کردی۔ نسلہ ٹاور کیس، مالکان اور الاٹیز کی نظر ثانی کی درخواست مستردکردی، سپریم کورٹ تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کرے گی۔ عدالت نے کمشنر کراچی کو 16 جون کے حکم پر عمل درآمد کا حکم دیدیا۔
دوسری جانب سپریم کورٹ نے پی ای سی ایچ ایس بلاک 6محمود آباد نالے کو چوڑا کرنے سے متعلق کے ایم سی کو این ای ڈی یونیورسٹی سے فزبیلٹی رپورٹ لے کر جمع کرانے کا حکم دیدیا،عدالت عظمی نے کراچی میونسپل کارپوریشن کے شکوے پر حکام کو ہائیکورٹ حکم امتناع پر درخواست دائر کرنے کی ہدایت کردی۔
جمعرات کوسپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس قاضی محمد امین احمد پر مشتمل بینچ نے پی ای سی ایچ ایس بلاک 6 محمود آباد نالے کو چوڑا کرنے سے متعلق کراچی میونسپل کارپوریشن کی درخواست پر سماعت کی۔
کے ایم سی کے وکیل عمر لاکھانی ایڈووکیٹ نے موقف دیا کہ پی ای سی ایچ ایس سوسائٹی نے نالہ کی اراضی پر پوری مارکیٹ بنا دی۔69دکانوں کے باعث نالہ چوڑا نہیں کر پارہے۔
محمود آباد نالہ چوڑا کرنا چاہتے ہیں مگر پی ای سی ایچ ایس سوسائٹی نہیں کرنے دے رہی۔ہماری استدعا ہے کیس کو گجر نالہ کیس کے ساتھ سنا جائے۔ چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ اس کیس کو الگ ہی سے سنیں گے۔
مزید پڑھیں:چیف جسٹس کی سندھ حکومت پر تنقید، کیا کراچی کی تباہی کی اصل ذمہ دار پیپلز پارٹی ہے؟
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








