امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے غزہ کے حوالے سے ایک مجوزہ امن منصوبہ پیش کر دیا ہے جس کا مقصد فوری جنگ بندی، انسانی امداد کی فراہمی اور خطے میں سیاسی استحکام لانا ہے۔ یہ اعلان انہوں نے واشنگٹن میں اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
صدر ٹرمپ کے اس 20 نکاتی منصوبے کے تحت غزہ میں جاری جھڑپوں کو فوری طور پر روکا جائے گا اور تمام محاذوں پر جنگ بندی نافذ کی جائے گی۔ منصوبے میں تجویز دی گئی ہے کہ 72 گھنٹوں کے اندر اندر تمام زندہ یرغمالیوں کو رہا کیا جائے گا جبکہ جاں بحق ہونے والے یرغمالیوں کی باقیات ان کے اہل خانہ کو واپس کی جائیں گی۔
امریکی تجویز میں حماس کے تمام جارحانہ ہتھیار تلف کیے جانے کی بات کی گئی ہے اور ہتھیار ڈالنے والے افراد کو عام معافی دینے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ حماس کے ان اراکین کو جو غزہ سے نکلنا چاہتے ہیں محفوظ راستہ دینے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔
غزہ میں انسانی بنیادوں پر امداد کی فوری فراہمی اور منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانے کے لیے اقوامِ متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں کو شامل کیا جائے گا۔ منصوبے میں واضح کیا گیا ہے کہ غزہ سے کسی بھی شہری کو زبردستی بے دخل نہیں کیا جائے گا اور جو لوگ واپس آنا چاہیں انہیں یہ حق دیا جائے گا۔
ٹرمپ کے منصوبے کے مطابق غزہ میں ایک عارضی عبوری حکومت قائم کی جائے گی جس میں فلسطینی نمائندوں کے ساتھ ساتھ عالمی ماہرین بھی شامل ہوں گے۔ ایک بین الاقوامی سکیورٹی فورس بھی عارضی طور پر تعینات کی جائے گی تاکہ امن و امان برقرار رکھا جا سکے۔
ہم سے بھول ہوگئی! نیتن یاہو کا معافی نامہ یا سفارتی شکست کا اعتراف؟
اس منصوبے میں غزہ کی تعمیر نو کے لیے ایک علیحدہ اقتصادی پروگرام بھی شامل ہے جو امریکا کی مالی معاونت سے عمل میں لایا جائے گا۔ فلسطینی اتھارٹی میں اصلاحات کے ذریعے غزہ کا انتظام سنبھالنے کی تیاری کی جائے گی جبکہ اسرائیلی افواج بتدریج غزہ سے انخلا کریں گی۔ منصوبے میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اسرائیل کو غزہ پر دوبارہ قبضہ یا الحاق کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
منصوبے کے آخری مراحل میں، اگر تمام اصلاحات مکمل ہو جاتی ہیں، تو فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ ہموار کی جائے گی۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ امن منصوبہ خطے میں امن، خوشحالی اور ہم آہنگی کی نئی بنیاد رکھے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ عرب اور یورپی رہنماؤں سے اس سلسلے میں مشاورت کی جا چکی ہے، اور امریکا اس امن معاہدے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
دوسری جانب پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے بھی اس امریکی منصوبے کا خیر مقدم کیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ وہ صدر ٹرمپ کے اس 20 نکاتی امن منصوبے کو سراہتے ہیں جس کا مقصد غزہ میں جاری خونریزی کو روکنا ہے۔
I welcome President Trump’s 20-point plan to ensure an end to the war in Gaza.
I am also convinced that durable peace between the Palestinian people and Israel would be essential in bringing political stability and economic growth to the region.
It is also my firm belief that…
— Shehbaz Sharif (@CMShehbaz) September 29, 2025
وزیراعظم نے کہا کہ فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے درمیان پائیدار امن نہ صرف خطے کے لیے ضروری ہے بلکہ یہ سیاسی استحکام اور معاشی ترقی کی ضمانت بھی فراہم کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ پُرامید ہیں کہ صدر ٹرمپ اس اہم عمل کو حقیقت بنانے کے لیے ہر ممکن تعاون کریں گے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








