مالی سال 26 کی پہلی سہ ماہی (جولائی تا ستمبر 2025) کے دوران حکومت کے مجموعی قرضے میں 1.2 کھرب روپے سے زائد کی کمی ہوئی جس کی بڑی وجہ اسٹیٹ بینک سے وفاقی حکومت کو بھاری منافع کی منتقلی تھی۔
اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق جون 2025 کے اختتام پر ملک کا مجموعی قرض 77.888 کھرب روپے تھا جو ستمبر 2025 تک کم ہو کر 76.605 کھرب روپے رہ گیا۔ اس کمی کا بڑا حصہ اندرونی قرض سے آیا جو 1.048 کھرب روپے کم ہو کر 53.424 کھرب روپے تک پہنچ گیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق حکومتی قرض میں یہ کمی ایک مثبت اشارہ ہے کیونکہ اس سے سود کی ادائیگیوں کا دباؤ کم ہوگا اور حکومت کو قرضوں کا انتظام بہتر طریقے سے کرنے کا موقع ملا ہے۔ اس سے نجی شعبے کو بھی مزید سرمایہ کاری اور ترقی کے لیے قرضہ لینے کی گنجائش ملے گی۔
طویل مدتی قرض میں بھی کمی دیکھنے میں آئی جو 692 ارب روپے کم ہو کر 44.961 کھرب روپے تک پہنچ گیا۔ اسی طرح مختصر مدتی قرضہ بھی 356 ارب روپے کم ہو کر 8.4 کھرب روپے رہ گیا۔ نیا پاکستان سرٹیفکیٹ کے تحت قرض 62 ارب روپے سے بڑھ کر 63 ارب روپے تک پہنچ گیا۔
بیرونی قرض (روپے میں) 236 ارب روپے کم ہوا اور ستمبر 2025 کے اختتام پر 23.181 کھرب روپے رہا جو جون میں 23.417 کھرب روپے تھا۔
گزشتہ مالی سال کے دوران اسٹیٹ بینک نے 2.5 کھرب روپے کا منافع کمایا جس میں سے 2.4 کھرب روپے وفاقی حکومت کو منتقل کیے گئے۔ اس آمدنی نے ملک کے مجموعی قرض کے بوجھ کو کم کرنے میں مدد دی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








