سوات کی سڑکوں پر موجود ہزاروں کی تعداد میں مظاہرین نے 38 گھنٹے سے جاری دھرنا ضلعی انتظامیہ اور سوات قومی جرگے سے مذاکرات کے بعد ختم کردیا، ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھائے مظاہرین کا ایک ہی مطالبہ تھا کہ سوات میں اب بس امن چاہتے ہیں۔
10 سال بعد ایک مرتبہ پھر تاریخ دہرائی گئی، پیر کو گلی باغ میں بچوں کو اسکول لے جانے والی وین پر نا معلوم موٹرسائیکل سواروں کی جانب سے فائرنگ کی گئی، فائرنگ کے نتیجے میں گاڑی کا ڈرائیور موقع پر ہی ہلاک ہوگیا جبکہ تیسری جماعت کے طالب علم کو 3 گولیاں لگی جو اب تک زیرعلاج ہے۔
واقعے کے بعد انتقال کرنے والے ڈرائیور حسین احمد کے اہل خانہ اور مختلف شہریوں کی جانب سے دھرنا دیا گیا تھا۔ مظاہرین نے حسین احمد کی میت کو دفنانے سے انکار کرتے ہوئے، اسے پوری رات کھلے آسمان تلے سڑک پر رکھا۔ قبل ازیں سوات کے ڈپٹی کمشنر جنید خان دیگر عہدیداروں کے ہمرا ہ دھرنے کی جگہ پہنچے تھے اور مظاہرین کے ساتھ مذاکرات کئے۔
ماضی میں ایک مرتبہ پہلے بھی اس طرح کا واقعہ پیش آیا تھا اور اس واقعے کو بین الاقوامی سطح پر بھی کوریج ملی تھی، نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی پر بھی ٹھیک دس سال قبل 2012 میں سوات میں اسی طرح حملہ ہوا تھا جب وہ چھٹی کے بعد دیگر بچوں کے ساتھ اسکول وین میں گھر جا رہی تھیں۔
سوات میں 2006 کے بعد شروع ہونے والی دہشت گردی کے لہر کے دوران متعدد اسکولوں کو بم دھماکوں سے اڑایا گیا، جبکہ جنوری 2009 میں بھی تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے لڑکیوں پر تعلیم حاصل کرنے کی مکمل پابندی عائد بھی کی گئی تھی۔
سوات میں گزشتہ دو مہینوں سے ایک مرتبہ پھر مختلف دہشت گردی کے واقعات رپورٹ ہو رہے ہیں۔ گذشتہ مہینے سوات کے کبل علاقے میں امن کمیٹی کے سابق سربراہ ادریس خان پر بھی حملہ ہوا تھا جس میں آٹھ افراد جان سے گئے تھے۔
سوات کے شہریوں میں اس وقت سخت خوف و دہشت بنی ہوئی ہے۔ لوگ کہتے ہیں دہشتگردی کے واقعات سے معیشت بیٹھ چکی ہے، بچے اسکول نہیں جا سکتے، راستوں میں ٹارگٹ کیا جاتا ہے۔ پاکستان کے سوئٹزرلینڈ سوات میں سیاحت کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے جس پر شہر زیادہ انحصار کرتا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








