طالبان حکومت کی پاکستان دشمنی کھل کر سامنے آگئی، وانا کیڈٹ کالج حملے اور اسلام آباد کچہری دھماکے کے بعد طالبان حکومت نے پاکستان کے ساتھ تجارت ختم کرنے کا اعلان کردیا۔
افغان نائب وزیراعظم اور وزیر برائے معاشی امور ملا عبدالغنی برادر نے افغان تاجروں اور صنعت کاروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ پاکستان کے راستے سے تجارت کرنے کے بجائے فوری طور پر دیگر ممالک کے تجارتی راستے اختیار کریں۔ اُن کا کہنا ہے کہ مستقبل میں اگر کوئی تاجر پاکستان کے راستے برآمدات یا درآمدات جاری رکھے گا، تو اسلامی امارت کسی بھی تجارتی رکاوٹ یا نقصان کی صورت میں مدد فراہم نہیں کرے گی۔
نجی خبر رساں ادارے “خراسان ڈائری” کے مطابق ملا برادر نے تاجروں سے ملاقات میں کہا کہ افغانستان کو پاکستان پر تجارتی انحصار کم کرنا ہوگا اور خطے کے دیگر تجارتی راستوں سے تعلقات مضبوط بنانے ہوں گے۔
ADDITION: Baradar: Pakistan Must Provide Firm Guarantees to Keep Trade Routes Open, Afghanistan Bans All Pharmaceutical Imports from Pakistan
Mullah Abdul Ghani Baradar, Deputy Prime Minister for Economic Affairs, has stressed that Pakistan must offer strong and practical… https://t.co/ItewjvOFK4
— The Khorasan Diary (@khorasandiary) November 12, 2025
رپورٹ کے مطابق ملا برادر نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کو مضبوط اور عملی ضمانتیں فراہم کرنی ہوں گی تاکہ کسی بھی سیاسی یا سیکیورٹی بحران کی وجہ سے تجارتی راستے بند نہ کیے جا سکیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے ساتھ تجارتی تعلقات صرف اس صورت میں بحال ہوں گے جب یہ یقین دہانی کرائی جائے کہ راستے دوبارہ بند نہیں کیے جائیں گے، چاہے حالات جنگ کے ہوں یا امن کے۔
دوسری جانب طالبان حکومت نے پاکستان سے تمام ادویات (pharmaceutical products) کی درآمد پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ حکام کا اعلان ہے کہ تین ماہ کے بعد پاکستانی ادویات کی خرید و فروخت افغانستان میں غیرقانونی ہوگی۔
افغان حکام نے تاجروں کو متنبہ کیا ہے کہ وہ غذائی اشیاء کی درآمد کے لیے بھی متبادل تجارتی راستے تلاش کریں، کیونکہ مقررہ مدت کے بعد پاکستان سے لائی جانے والی غذائی مصنوعات بھی غیرقانونی قرار دی جائیں گی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








