افغانستان میں طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے شرعی سزاؤں کے نفاذ پر اقوام متحدہ کمیشن برائے انسانی حقوق اور مغربی ممالک کے نمائندوں کے اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ادارے اپنے نمائندوں کو اسلام مخالف بیانات دینے سے روکیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق افغانستان میں طالبان کی حکومت نے امیرِ طالبان ملا ہبتہ اللہ اخوندزادہ کے حکم پر مختلف جرائم میں ملوث 3 خواتین سمیت 14 ملزمان کی شرعی سزاؤں پر عمل درآمد کردیا۔
The Statement of the Spokesperson of the United Nations High Commission for Human Rights and Representatives of Western Countries regarding the implementation of the Penal Code of Islam, calling the punishment of flogging as inhumane and cruel act…
— Zabihullah (..ذبـــــیح الله م ) (@Zabehulah_M33) November 26, 2022
ان مجرموں کو کوڑے لگائے گئے تھے جس پر اقوام متحدہ کے ہائی کمیشن برائے انسانی حقوق کے ترجمان نے اس سزا کو غیر انسانی عمل قرار دیا تھا جب کہ مغربی ممالک نے بھی کوڑے کی سزا کو ظالمانہ فعل کہا تھا۔
جس پر ردعمل دیتے ہوئے ترجمان طالبان حکومت ذبیح اللہ مجاہد نے ٹوئٹر پر لکھا کہ اقوام متحدہ کے ہائی کمیشن برائے انسانی حقوق کے ترجمان اور مغربی ممالک کے نمائندوں کی جانب سے کوڑوں کی سزا کو “غیر انسانی اور ظالمانہ فعل” قرار دینا مقدس مذہب اسلام کی توہین اور عالمی معیارات کے منافی ہے۔
طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ اور مغربی ممالک کو اپنے نمائندوں کو غیر ذمہ دارانہ اور اشتعال انگیز بیانات دینے سے روکنا چاہیئے۔
خیال رہے کہ گزشتہ روز اقوام متحدہ کے ہائی کمیشن برائے انسانی حقوق کے دفتر کی ترجمان روینہ شامداسانی نے خواتین سمیت 14 افراد کو کوڑے مارنے کی سزا کے خلاف بیان دیا تھا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








