ٹیکس چوری اور پھر بھاگنے کی کوشش؟ معروف فیشن ڈیزائنر نومی انصاری پھنس گئے

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

پاکستان کی فیشن انڈسٹری کے معروف نام نومی انصاری پر ٹیکس دھوکہ دہی کے سنگین الزامات لگنے کے بعد قانونی کارروائی نے نئی موڑ لے لیا ہے۔ وفاقی ٹیکس بورڈ (ایف بی آر) نے ان کے خلاف اربوں روپے کی دھوکہ دہی کا مقدمہ درج کیا تھا جسے اب سندھ ہائی کورٹ نے برقرار رکھنے کا فیصلہ سنایا ہے۔

یہ کیس نہ صرف ٹیکس قوانین کی خلاف ورزیوں کو اجاگر کرتا ہے بلکہ کاروباری ریکارڈ کی شفافیت پر بھی سوال اٹھاتا ہے۔ عدالت نے ان کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ کوئی غیر معمولی معاملہ نہیں جسے فوری طور پر ختم کیا جائے اور انہیں ٹرائل کورٹ میں بریت کی درخواست دائر کرنے کی ہدایت دی ہے۔

تفصیلات کے مطابق سندھ ہائی کورٹ میں فیشن ڈیزائنر نومی انصاری کے خلاف ٹیکس دھوکہ دہی کا مقدمہ خارج کرنے کی درخواست کی سماعت ہوئی۔ سرکاری وکیل نے موقف اختیار کیا کہ نومی انصاری اور دیگر ملزمان پر ریٹیلر کے طور پر فروخت کی کم مقدار ظاہر کرنے اور ٹیکس دھوکہ دہی کا الزام ہے جو سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کی متعدد شقوں کی خلاف ورزی ہے۔

درخواست گزار کے وکیل نے اپنے دلائل میں کہا کہ سپریم کورٹ کے سابقہ فیصلوں کی روشنی میں درخواست گزار کے خلاف مقدمہ درج کرنا غیر قانونی ہے اور غیر قانونی تلاشیوں کے ذریعے حاصل کیے گئے دستاویزات کو شواہد کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایف آئی آر عدالت کے 18 اپریل کے عبوری حکم کی خلاف ورزی ہے اور اس کی کوئی قانونی بنیاد نہیں۔

عدالت نے اپنے ریمارکس میں واضح کیا کہ یہ ایسا غیر معمولی کیس نہیں ہے جس میں متبادل فورم کو نظر انداز کیا جائے اور نومی انصاری کی مقدمہ خارج کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔ عدالت نے مزید کہا کہ درخواست گزار ٹرائل کورٹ میں بریت کی درخواست دائر کر سکتے ہیں۔

کیس کی پس منظر اور الزامات

ایف بی آر نے 18 اپریل 2025 کو کراچی میں نومی انصاری کے خلاف ایف آئی آر درج کی جس میں سیلز ٹیکس دھوکہ دہی کی رقم 1.2 بلین روپے سے زائد بتائی گئی۔ انصاری جو اپنے نام سے فیشن لیبل چلاتے ہیں پر سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کی شق 2(37) (ٹیکس دھوکہ دہی) کے تحت الزام عائد کیا گیا۔ اس کے علاوہ شقوں 3 (ٹیکس کا دائرہ کار)، 6 (ٹیکس کی ادائیگی کا وقت و طریقہ)، 7 (ٹیکس کی ذمہ داری کا تعین)، 8 (ٹیکس کریڈٹ کی اجازت نہ ہونا)، 8A (سپلائی چین میں رجسٹرڈ افراد کی مشترکہ ذمہ داری)، 11E (ٹیکس کی تشخیص اور وصولی)، 22 (مال کی ریکارڈنگ)، 23 (ٹیکس انوائسز)، 26 (ریٹرن) اور 73 (بعض لین دین کی ناقابل قبولیت) کی خلاف ورزی کا بھی ذکر ہے۔

الزامات کے مطابق نومی انصاری نے سیل آمدنی کو کم ظاہر کیا سیلز ٹیکس ریٹرنز میں سنگین اختلافات اور غیر معمولی پروفائل پایا گیا۔ ٹیکس ایبل سیلز کے مقابلے میں صفر خریداری کی رپورٹنگ کی گئی جو کاروبار کی نوعیت سے مطابقت نہیں رکھتی۔ بینکوں سے حاصل معلومات سے پتہ چلا کہ انصاری کو غیر ملکی ترسیلات اور کیش بغیر دستاویزات کے جمع کروائے جا رہے تھے۔

تلاشی آپریشن اور شواہد

20 فروری 2025 کو مجسٹریٹس سے سرچ وارنٹ حاصل کرنے کے بعد، ایف بی آر کی ٹیم نے انصاری کے برانڈ کی تین جگہوں پر چھاپے مارے جن میں دو اعلان شدہ کمرشل جائیدادوں کے علاوہ کراچی کے مہران ٹاؤن میں ایک غیر اعلان شدہ مینوفیکچرنگ یونٹ بھی شامل تھا۔ چھاپوں کے دوران ضبط شدہ دستاویزات سے انکشاف ہوا کہ ان کا کاروبار بہت بڑا ہے اور سیلز ٹیکس ریٹرنز میں فروخت کو دبایا گیا۔ ریکارڈ میں ملازمین کے نام پر بڑی مقدار میں کیش ڈپازٹس کی منی ایکسچینج سلپس اور فولڈرز بھی برآمد ہوئے۔

ایف آئی آر کے مطابق ملزمان پر سیلز ٹیکس ایکٹ کی شق 37A کے تحت مقدمہ چلانے کا جواز ہے اور مزید تحقیقات جاری ہیں۔

Related Posts