چین کے شہر کنمنگ میں واقع لوویانگ ژن اسٹیشن پر جمعرات کی صبح ایک بھیانک ٹرین حادثہ پیش آ یا جس میں 11 ریلوے اہلکار ہلاک جبکہ دو دیگر زخمی ہو گئے۔ حادثہ ایک تجرباتی ٹرین کے دوران ہوا جو زلزلہ ناپنے والے آلات کے ساتھ تجرباتی ڈرائیو کر رہی تھی۔
اطلاعات کے مطابق ٹرین ٹریک کے ایک موڑ پر انتہائی تیز رفتاری سے چل رہی تھی جب اس نے مینٹیننس کے کام میں مصروف اہلکاروں کو ٹکر مار دیا۔ ٹرین کنمنگ جو یوننان صوبے کا دارالحکومت ہے کی حدود میں چل رہی تھی۔
ریلوے حکام نے فوری طور پر ایمرجنسی پلان نافذ کر دیا اور مقامی حکومت کے تعاون سے ریسکیو اور طبی امداد کی کارروائیاں شروع کر دیں۔ زخمیوں کو فوری اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کا علاج معالجہ جاری ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ حادثے کی وجہ ابھی واضح نہیں ہوئی تاہم تفصیلی تحقیقات شروع ہو چکی ہیں۔ یہ واقعہ چین کی دنیا کی سب سے بڑی ریل نیٹ ورک میں ایک اور افسوسناک اضافہ ہے حالانکہ حالیہ دہائیوں میں ایسے مہلک حادثات کی تعداد کم ہوئی ہے۔

ماضی میں بھی چین میں کئی ایسے حادثات رونما ہوئے ہیں۔ 2022 میں گوئیژو صوبے کے رونگ جیانگ کاؤنٹی کے قریب ایک ٹرین لینڈ سلائیڈ کے ملبے سے ٹکرا کر پٹری سے اتر گئی تھی جس میں ایک کنڈیکٹر ہلاک اور آٹھ زخمی ہوئے۔ 2020 میں ہونان صوبے کے چینژو میں ایک ٹرین کا ڈی ریلمنٹ ہوا جس سے ایک شخص ہلاک اور 127 زخمی ہوئے۔
چین کا سب سے بڑا حالیہ ریل حادثہ 2011 میں وینژو ژجیانگ صوبے میں پیش آیا جہاں ایک ہائی اسپیڈ ٹرین ایک سٹیشنری لوکو موٹو سے ٹکرائی جس میں 40 افراد ہلاک اور تقریباً 200 زخمی ہوئے۔ اس سے پہلے 2008 میں شینڈانگ صوبے کے زیبو کے قریب دو مسافر ٹرینوں کی ٹکراؤ سے 66 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
یہ حادثہ چین کی ریل سسٹم کی حفاظتی اقدامات پر ایک بار پھر سوالات اٹھا رہا ہے اور حکام سے توقع کی جا رہی ہے کہ تحقیقات کے نتائج جلد سامنے آئیں گے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








