افغانستان میں رات گئے ایک شدید زلزلے نے تباہی مچا دی ہے جس کی شدت 6.0 ریکارڈ کی گئی۔ طالبان حکام کے مطابق اس زلزلے کے نتیجے میں کم از کم 250 افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ 500 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔
امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق یہ زلزلہ جلال آباد شہر سے تقریباً 17 میل دور پاکستان کی سرحد کے قریب آیا جو مقامی وقت کے مطابق تقریباً آدھی رات کے وقت تھا۔
افغانستان کے سرکاری ترجمان شرافت زمان نے بتایا کہ چونکہ زلزلہ ایک دور دراز اور پہاڑی علاقے میں آیا ہے اس لیے ابھی انسانی نقصان اور انفراسٹرکچر کو پہنچنے والے نقصانات کی مکمل تفصیلات حاصل کرنا مشکل ہے اور اس میں وقت لگے گا۔
BREAKING: The Afghan government reports that at least 250 people have died, 500 injured following a powerful earthquake in Afghanistan. pic.twitter.com/6vKvcENOkF
— Weather Monitor (@WeatherMonitors) September 1, 2025
انہوں نے کہا کہ حکومت نے متاثرہ علاقوں میں بڑے پیمانے پر ریسکیو آپریشن شروع کر رکھا ہے اور سینکڑوں افراد کو امدادی کاموں کے لیے متحرک کیا گیا ہے۔
زلزلے کے بعد دن بھر میں پانچ مزید جھٹکے بھی آئے جن کی شدت 4.5 سے 5.2 تک ریکارڈ کی گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آفٹر شاکس کئی دنوں تک جاری رہ سکتے ہیں اور بعض اوقات اصل زلزلے سے بھی شدید ہوتے ہیں۔
افغانستان کا جغرافیائی محل وقوع اسے زلزلوں کے لیے بہت حساس بناتا ہے کیونکہ یہ خطہ انڈین اور یوریشین ٹیکٹونک پلیٹس کے آپس میں ملنے والی جگہ پر واقع ہے۔ خاص طور پر مشرقی افغانستان کا پہاڑی علاقہ لینڈ سلائیڈنگ کے خطرے سے بھی دوچار ہے جو ریسکیو کاموں کو مزید مشکل بناتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس زلزلے کی تباہ کاری زیادہ تھی کیونکہ یہ سطح زمین کے بہت قریب یعنی صرف پانچ میل گہرائی پر آیا جس کی وجہ سے اس کی شدت معتدل ہونے کے باوجود نقصانات بہت زیادہ ہوئے۔
افغان حکام نے بتایا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں فوری امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئی ہیں تاہم آفٹر شاکس اور لینڈسلائیڈنگ کی وجہ سے کئی راستے بند ہو چکے ہیں۔ بالخصوص پہاڑی علاقوں میں زمینی رسائی ممکن نہ ہونے کے باعث صرف فضائی امداد ہی دی جا سکتی ہے۔
افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک بیان میں کہا ہے کہ زلزلے سے ہونے والے جانی و مالی نقصان پر افسوس ہے اور متاثرہ علاقوں میں مقامی انتظامیہ امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہے۔ ان کے مطابق مرکز اور قریبی صوبوں سے ریسکیو ٹیمیں روانہ کر دی گئی ہیں تاکہ متاثرین کو فوری مدد فراہم کی جا سکے.
افغان حکومت نے ملکی و بین الاقوامی امدادی اداروں سے ریسکیو آپریشن میں تعاون کی اپیل کی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








